محمد امین اللہ
جب کوئی فرد ، مالی ، جسمانی ، ذہنی ازدواجی ، خاندانی روحانی ، معاشرتی اور سماجی حوالے سے کسی آزمائش یا پریشانی سے دوچار ہو تو سب سے پہلے اس کو اپنے اندرون کا محاسبہ کرنا چاہئے کہ اس پریشانی کے اسباب میں اس کی اپنی کتنی ، غلطی اور کوتاہی کے ساتھ ساتھ اللہ اور اُس کے رسولؐ کی نا فرمانیوں کا کتنا عمل دخل ہے ، پھر بیرونی وجوہات کے بارے میں جائزہ لے کر اس کی اصلاح اور سد باب کی کوشش کرنے کے ساتھ توبہ استغفار لازمی ہے ۔ اسلامی تعلیمات کی بنیاد اخلاق ہے ۔بعثت نبویؐ سے قبل عرب معاشرے کو دور جاہلیت کا معاشرہ کہا جاتا تھا ،یعنی ہر سمت میں پھیلی تھی جہالت ہی جہالت۔ابتداء میں حضرت محمدؐ نے اصحاب اور صحابیات کی ایسی اخلاقی تربیت کی کہ وہ اخلاق و کردار کے ایسے درخشاں ستارے بن گئے کہ اللہ نے کہا کہ یہ اللہ سے راضی ہیں اور اللہ اُن سے راضی ہے ۔آپؐ نے فرمایا ،میرے صحابہ چاند ستاروں کے مانند ہیں، تم لوگ ان میں سے جس کسی کی پیروی کروگے کامیاب ہو جاؤ گے ۔ صحابہ اور صحابیات حلم و بردباری ، فہم و فراست ، اخوت و مساوات اور علم و تقویٰ کے ایسے کردار تھے کہ جو انسان اُن سے ملا ،اُن کا مقلد ہو گیا ۔ لیکن گزشتہ کئی صدیوں سے مسلمانان ِعالم راندہ درگاہ ہے کیونکہ اخلاقی ، دینی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری جن پر عائد ہوتی ہے وہ غافل ہی نہیں بلکہ دنیا داری کی وجہ سے مجرمانہ حرکتوں کے مرتکب ہیں ۔ ماہرین نفسیات اور انسانی پرورش کے عوامل پر محققین کی مشترکہ آراء ہے کہ ایک بچہ پانچ سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے ذہنی طور پر بنیادی معلومات پر مکمل با خبر ہو جاتا ہے اور گھر میں والدین اور گھر والوں سے جو کچھ بھی دیکھتا، سنتا ہے اور بچپن میں جو عادت اس کو لگ جاتی ہیں، ساری زندگی اس سے متاثر رہتا ہے بلکہ اس کا اعادہ کرتا ہے ۔چنانچہ ہمارے برانڈیڈ اسکول جہاں مہنگی فیسوں کے ساتھ بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے ،اخلاقی تعلیم تو کُجا ،بچوں کو ماں باپ کے احترام کرنے سے بھی دور کر دیا جاتا ہے ۔ یہ بات آسانی سے کہی جا سکتی ہے کہ جو بچے والدین کا احترام نہیں کرتے ،وہ دوسروں کا احترام کیا کریں گے ۔ تعلیم جس کا مقصد اپنے دین ، اپنی تہذیب اور معاشرتی اقدار اور علم و ہنر کو منتقل کرنا ہے، اس سے ہٹ کر ایک پیسہ کمانے والی مشین اور مادہ پرست انسان بنایا جاتا ہے، وہ کیسے اخلاقی قدروں کو اہمیت دے گا ۔ آج پوری دنیا جس بھیانک انجام سے دوچار ہو رہی ہے، یہ سب ان لوگوں کے ہاتھوں ہو رہا ہے جو نام نہاد اعلیٰ تعلیمی اداروں کے تعلیم یافتہ افراد ہیں ۔ انسان پوری زندگی جن دائروں میں رہتا ہے وہ معاشرہ ہے جہاں وہ اپنا فاضل وقت گذارتا ہے، دوستیاں کرتا ہے اور اس کا اپنا ایک حلقہ احباب ہوتا ہے مگر آج یہ دوستیاں اور تعلق داریاں ایک دوسرے کو بگاڑنے والی بن چکی ہیں ۔ صحبت سے انسان اچھا اوربُرا بنتا ہے ۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا ۔ اگر تم عطر فروش کی دکان پر بیٹھو گے تو عطر کی خوشبو ملے گی مگر لوہار کی دکان پر آگ کی تپش ۔
سب سے اہم ذمہ داری حکومت وقت کی ہوتی ہے جو اپنی عوام اور نسل نو کی آبیاری کے لئے ہر وہ قدم اٹھائے جو اس کو ایک اچھا انسان بنائے اور بگاڑ کو روکنے کے لئے قانون سازی کرے اور اس کے نفاذ میں کسی طرح طبقاتی رویہ اختیار نہ کرے مگرشومئ قسمت سے آج کےحکمران خود چلتےپھرتے بُرے عادات اور چلن کا نمونہ بن چکے ہیں۔ چونکہ یہ دور پر فتن ہے اور فتنہ عالمی اقتدار کا مالک ہے، لہٰذا ہر بُرائی اور اخلاقی بگاڑ کو انسانی حقوق کا نام دے کر اس کو جائز قرار دیدیا گیا ہے ۔ اگر کوئی اس کو روکنے کی کوشش کرتا ہے اسے انسان دشمن قرار دے پابند سلاسل کر دیا جا رہاہے ۔ جن ممالک میں انتظامی صورت حال قابلِ رشک ہیں ،وہاں انسانی اخلاقیات حیوانی لبادہ اوڑھ چکی ہے ،حتیٰ کہ رشتوں کا تقدس بھی پامال ہو چکا ہے ۔ آج میڈیا نے دنیا سے انسانیت کو ختم کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے ۔اس لئے معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر کسی کو اخلاق اور نیکی کی طرف بلائے۔جس جگہ رہے جہاں بھی جائے،اچھے لفظوں کی مہک پھیلایئے اور رستے کا دِیا بن جایئے ۔