عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/شراب نوشی کے دوران ہنگامہ آرائی ، امن میں رخنہ ڈالنے ، لوگوں میں خوف ودہشت پھیلانے کے سلسلے میں جنوبی کشمیر کی عدالت نے تین افراد پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے انہیںسماجی خدمات کی سزا سنادی ۔بھارتیہ نیاے سہیتا کے تحت انصاف کے تصورکو بروئے کار لاتے ہوئے کولگام کی مقامی عدالت نے شراب کے نشے میں امن میں خلل ڈالنے کے جرم میں تین افراد کو قید کے بجائے سماجی خدمات کی سزا سنائی ۔
جوڈیشل مجسٹریٹ درجہ اول کولگام نے پولیس اسٹیشن کولگام کی جانب سے بھارتیہ نیائے کی دفعہ 355کے تحت درج مقدمہ میں تینوں ملزمان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے فیصلہ سنایا ۔عدالت نے ملزمان نشے کی حالت میں عوامی مقامات پر ہنگامہ آرائی برپا کرنے کا فرد جرم عائد کیا ۔ عدالت کی جانب سے جن افراد کو سماجی خدمات کی سزا سنائی گئی ان میں مبارک احمد ڈار ولد غلام حسن ساکنہ بوگنڈ ، عارف احمد گنائی ولد مشتاق احمد ، بلال احمد آہنگر ولد محمد یوسف ساکنہ سلی نوپورہ کے بطور ہوئی ہے ۔
عدالت نے فیصلے کے بعد تینوں افراد کو 10دن تک تحصیل اور سب ڈسٹرکٹ اسپتال قیموہ میں صفائی اور حفظات صحت سے متعلق خدمات انجام دینے کا حکم دیا ۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اس طرح کی غیر حراستی سزا نہ صرف ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے بلکہ ملزمان کو معاشرے کیلئے مثبت کردار ادا کرنے کا موقعہ بھی فراہم کرتی ہے ۔ یہ فیصلہ حالیہ فوجداری قانونی اصلاحات کے عین مطابق ہے جن کے تحت معمولی جرائم میں قید کے بجائے اصلاحی اور سماجی نوعیت کی سزائوں پر زور دیا گیا ہے تاکہ مجرموں کو اصلاح اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کا موقعہ مل سکے ۔
شراب کے نشے میں دھت تین افراد پرفردِ جرم عائد ، 10دنوں تک سماجی خدمات انجام دینے کی ہدایت