عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن کو اپنی بات رکھنے کا موقع نہیں دیا جا رہا ہے، جبکہ حکمراں جماعت کے اراکین کو کچھ بھی بولنے کی آزادی ہے چاہے وہ توہین آمیز تبصرہ ہی کیوں نہ ہو۔کانگریس کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے پیر کو پارلیمنٹ احاطے میں کہا کہ پارلیمانی ضابطے کے مطابق اپوزیشن کا لیڈر “شیڈو وزیر اعظم” ہوتا ہے، لیکن انہیں اس اجلاس میں ایوان کے اندر کچھ بھی بولنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کے لوگ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، حکمراں جماعت کے لوگ توہین آمیز تبصرہ کر سکتے ہیں، کسی پر حملہ کر سکتے ہیں لیکن ہمارے اتحاد کے رہنماؤں کو بھی اپنی بات رکھنے نہیں دیا جاتا۔
وینوگوپال نے کہا کہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے خود کانگریس کی خواتین اراکین پر الزام لگایا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن کے لیے ایوان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ چاہے اپوزیشن کا لیڈر ہو یا کسی دوسری جماعت کا رہنما، انہیں بولنے نہیں دیا جاتا۔ ایوان کے ریکارڈ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہیں کیونکہ سبھی اس سے متاثر ہیں۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان جو تجارتی معاہدہ ہوا ہے وہ حیران کن ہے۔ ہم لوگ ایوان میں بحث کے لیے تیار ہیں۔ اپوزیشن کے رہنما تین چار موضوعات پر اپنی بات رکھنا چاہتے ہیں لیکن انہیں بولنے نہیں دیا جا رہا۔ ایوان کو صرف حکومت کے لیے بنایا جا رہا ہے جو مناسب نہیں ہے۔
اپوزیشن کے لیے ایوان میں کوئی جگہ نہیں: کانگریس