عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز کہا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی اور نامیاتی حل دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے یہ بات شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (سکاسٹ) سری نگر میں سالانہ گونگل فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت زراعت، باغبانی، مویشی پروری، ماہی پروری، پھولوں کی کاشت اور ڈیری جیسے شعبہ جات کو مستحکم بنا کر دیہی معیشت کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ بجٹ میں ان شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سکاسٹ جموں اور سکاسٹ کشمیر جیسے ادارے کسانوں کو جدید، ٹیکنالوجی سے آراستہ اور نامیاتی طریقۂ کار اپنانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں تاکہ پیداوار، پیداواری صلاحیت اور معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ ان اقدامات سے دیہی روزگار اور آمدنی میں براہِ راست اضافہ ہوگا۔
گونگل فیسٹیول کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، جو اس سال اپنے 11ویں ایڈیشن میں داخل ہو چکا ہے، عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ میلہ کسانوں اور زائرین کو نئی زرعی ٹیکنالوجی اور اختراعات سے روشناس ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر سیب، اخروٹ اور بادام جیسے باغبانی مصنوعات میں مقامی پیداوار اور معیار کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مسابقتی منڈی میں جگہ برقرار رکھی جا سکے۔
ڈیوٹی فری درآمدات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سستی اور اعلیٰ معیار کی غیر ملکی مصنوعات کی آمد سے مقامی کاشتکاروں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کنٹرولڈ ایٹماسفیئر (سی اے) اسٹوریج جیسی سہولیات مقامی کسانوں کو بہتر معیار کی پیداوار مارکیٹ میں لانے اور مسابقت بڑھانے میں مدد دے رہی ہیں۔وزیراعلیٰ نے میلے میں شریک نوجوانوں کی جانب سے پیش کی گئی اختراعات کو سراہتے ہوئے طلبہ کے زرعی اور آبپاشی سے متعلق ٹیکنالوجی حل کی مثالیں پیش کیں اور زرعی جدت میں جامعات کے کردار کو اہم قرار دیا۔
ٹیکنالوجی اور نامیاتی کاشتکاری دیہی معیشت کے فروغ کی کنجی: وزیراعلیٰ عمر عبداللہ