عظمیٰ ویب ڈیسک
راجوری/چیف ایجوکیشن آفیسر راجوری کے دفتر نے زون موگلا کے گورنمنٹ پرائمری اسکول لنجھار میں تعینات ٹیچر گریڈ سوم کو مبینہ بدسلوکی، غیر نظم و ضبط اور فرائض میں کوتاہی کے سنگین الزامات کے بعد فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔سرکاری حکم نامے کے مطابق یہ کارروائی زونل ایجوکیشن آفیسر موگھلا کی رپورٹ کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 18 فروری 2026 کو کیے گئے معائنے کے دوران مذکورہ ٹیچر مبینہ طور پر اوقاتِ کار میں اسکول کے احاطے میں نشے کی حالت میں پائے گئے، جس سے تعلیمی ماحول بری طرح متاثر ہوا۔
حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی متعلقہ ٹیچر کو ڈیوٹی سے غیر حاضری اور اسکول اوقات میں شراب نوشی کے الزامات پر وضاحت طلبی کا نوٹس جاری کیا گیا تھا، تاہم حکام کے مطابق رویے میں کوئی تسلی بخش بہتری نہیں دیکھی گئی۔
علاوہ ازیں عملے کے اراکین، والدین اور عوام کی جانب سے تحریری شکایات بھی موصول ہوئیں جن میں بدسلوکی، عملے کو ہراساں کرنے، تدریسی فرائض میں غفلت اور سرکاری ملازم کے شایانِ شان نہ ہونے والے رویے کے الزامات عائد کیے گئے۔چیف ایجوکیشن آفیسر راجوری نے ان الزامات کو سنگین بدعنوانی اور جموں و کشمیر گورنمنٹ ایمپلائز کنڈکٹ رولز 1971 کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جموں و کشمیر سول سروسز (کلاسیفیکیشن، کنٹرول اینڈ اپیل) رولز 1956 کے تحت محکمانہ انکوائری تک معطلی کا حکم جاری کیا ہے۔دورانِ معطلی مذکورہ ٹیچر کو زونل ایجوکیشن آفیسر خواس کے دفتر کے ساتھ منسلک رکھا جائے گا اور انہیں قواعد کے مطابق سبسسٹنس الاؤنس دیا جائے گا۔
نشے کی حالت میں ڈیوٹی انجام دینے کا الزام، راجوری میں سرکاری استاد معطل