عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/لیفٹیننٹ گورنر لداخ کویندر گپتا نے بدھ کے روز وزارتِ داخلہ اور لداخ کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے مجوزہ مذاکرات کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے مکالمہ ہی بہترین راستہ ہے۔وزارت داخلہ نے حال ہی میں فیصلہ کیا ہے کہ لداخ سے متعلق ہائی پاورڈ کمیٹی (ایچ پی سی) کا اجلاس جنوری کے آخر میں طلب کیا جائے گا، جس کی صدارت مرکزی وزیرِ مملکت برائے داخلہ نتیا آنند رائے کریں گے۔
لہہ اپیکس باڈی (ایل اے بی) اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) مشترکہ طور پر لداخ کے لیے ریاستی درجہ اور آئینی تحفظات کی توسیع (چھٹی شیڈول کے تحت) کے مطالبات کو لے کر احتجاجی تحریک کی قیادت کر رہے ہیں، اور ماضی میں ایچ پی سی کے ساتھ کئی ادوار کی بات چیت ہو چکی ہے۔گزشتہ سال 24 ستمبر کو لہہ میں تشدد کے واقعات کے بعد مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے، جن میں چار شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ یہ تشدد مرکز کے ساتھ طے شدہ مذاکرات کو قبل از وقت منعقد کرانے کے مطالبے پر دی گئی عام ہڑتال کے دوران پیش آیا تھا۔
تاہم، 22 اکتوبر کو لداخ کے نمائندوں نے ایم ایچ اے کی ذیلی کمیٹی کے ساتھ بات چیت کی، جب مرکز نے تشدد کے واقعے کی عدالتی جانچ کے لیے سپریم کورٹ کے ایک سبکدوش جج کی سربراہی میں انکوائری کا حکم دیا اور نمائندوں نے اپنے مطالبات پر مشتمل تفصیلی دستاویز وزارتِ داخلہ کو پیش کی۔
کوویندر گپتا نے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، ایسے اجلاس وقتاً فوقتاً ہوتے رہے ہیں، وزارتِ داخلہ نے اس ماہ کے آخر میں کمیٹی کا اجلاس بلایا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اراکین کو سمجھنا چاہیے کہ جو کچھ بھی زیرِ بحث آئے گا، وہ آئین کے دائرے میں اور ملک کے مفاد میں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ 2019 میں جموں و کشمیر سے علیحدہ ہو کر یونین ٹیریٹری کا درجہ ملنے کے بعد مرکزی حکومت نے لداخ کا خصوصی خیال رکھا ہے۔گپتا کے مطابق، مرکزی حکومت نے گزشتہ سال ریزرویشن اور ڈومیسائل سے متعلق مسائل بھی حل کر دیے ہیں۔وزارتِ داخلہ نے لداخ کے لیے نئی ریزرویشن اور ڈومیسائل پالیسیوں کا اعلان کیا تھا، جن کے تحت 85 فیصد سرکاری نوکریاں مقامی باشندوں کے لیے مختص کی گئی ہیں، جبکہ لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں میں خواتین کے لیے کل نشستوں کا ایک تہائی حصہ محفوظ کیا گیا ہے۔ معاشی طور پر کمزور طبقات (ای ڈبلیو ایس) کے لیے 10 فیصد ریزرویشن برقرار رہے گی۔
نئے قواعد کے مطابق، وہ افراد جو یونین ٹیریٹری میں 15 سال تک مقیم رہے ہوں یا سات سال تک تعلیم حاصل کر کے لداخ میں واقع کسی تعلیمی ادارے سے دسویں یا بارہویں جماعت کا امتحان پاس کر چکے ہوں، سرکاری یا مقامی اداروں میں تقرری کے لیے لداخ کے ڈومیسائل کے اہل تصور کیے جائیں گے۔
ریاستی درجہ اور چھٹی شیڈول پر بات چیت: مرکز اور لداخ قیادت کے درمیان مذاکرات جنوری کے آخر میں