عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/سرینگر سے نیشنل کانفرنس کے رکنِ پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے منگل کے روز الزام عائد کیا کہ کشمیر میں پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے مساجد اور مذہبی خطیبوں کی نگرانی آئین کی خلاف ورزی اور مذہبی آزادی پر حملہ ہے۔نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ مساجد کے خطیبوں کی تفصیلات جمع کرنا اور مذہبی مقامات کی نگرانی میں اضافہ کوئی الگ تھلگ انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک وسیع تر نظریاتی منصوبے کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا’’یہ کوئی معمول کا لاء اینڈ آرڈر کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ایک مخصوص دائیں بازو کی نظریاتی سوچ کا منصوبہ ہے جو ان مذاہب کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے جو آر ایس ایس کے نظریے سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔‘‘
رکنِ پارلیمان نے کہا کہ آئین ہر شہری کو بلا خوف مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کا حق دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نگرانی، ہراسانی اور مذہبی عمل کو قابو میں کرنے کی کوششیں آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔آغا روح اللہ نے ’’اضافی نگرانی ‘‘کی ضرورت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریاست کے پاس پہلے ہی شہریوں کا وسیع ذاتی ڈیٹا موجود ہے۔ انہوں نے کہا، آپ کے پاس آدھار ہے، آپ کے پاس تمام تفصیلات ہیں۔ اگر آپ کسی مخصوص مذہب سے وابستہ افراد کو الگ کرکے اضافی نگرانی میں رکھتے ہیں تو یہ انہیں ڈرانے کی کوشش محسوس ہوتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی نگرانی براہِ راست مذہبی معاملات میں مداخلت کا باعث بن سکتی ہے۔ روح اللہ کا کہنا تھا کہ ’’کل کو مسجد کے خطیبوں کو بتایا جا سکتا ہے کہ وہ کیا خطبہ دیں اور کیا نہ دیں۔ اس کا مطلب ہوگا کہ خود مذہب کے عمل کو کنٹرول میں لایا جا رہا ہے۔رکنِ پارلیمان نے کہا کہ پولیس، سی آئی ڈی، انٹیلی جنس یونٹس اور نیم فوجی دستوں سمیت سیکورٹی ایجنسیوں کے پاس پہلے سے متعین نگرانی کے طریقۂ کار موجود ہیں، اور مذہبی اداروں کو الگ سے نشانہ بنانا ایک ’’خطرناک پیغام‘‘دیتا ہے۔
بین الاقوامی امور کا مختصر حوالہ دیتے ہوئے آغا روح اللہ نے ایران اور غزہ کے تناظر میں مغربی طاقتوں پر جمہوریت اور انسانی حقوق کے حوالے سے ’’دوہرا معیار‘‘اپنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ خودمختار ممالک کے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت غیر منصفانہ ہے۔انہوں نے مقامی شہری مسائل کی طرف بھی توجہ دلائی، خصوصاً سرینگر کے مضافات میں کچرا ڈالنے کے طویل عرصے سے حل طلب مسئلے کی۔ آغا روح اللہ نے کہا کہ آبادی والے علاقے اور آبی ذخیرے کے قریب کچرا ڈالنا انسانی وقار اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا، یہ کچرے کا ڈھیر برسوں میں پہاڑ بن چکا ہے۔ یہ انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے اور قانون کے بھی۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ کچرا مینجمنٹ، ڈمپنگ سائٹ کی منتقلی اور متاثرہ آبی ذخیرے کی بحالی کے منصوبوں پر منتخب حکومت اور انتظامیہ سے جواب طلب کریں گے۔آغا روح اللہ نے کہا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے حکام اور مقامی باشندوں سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا اگر ضرورت پڑی تو میں ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار ہوں تاکہ عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اضافی نگرانی مخصوص مذہب کو نشانہ بنانے کے مترادف:آغا روح اللہ