عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں سکیورٹی فورسز نے بدھ کے روز جاری سرچ آپریشن کو مزید تیز کرتے ہوئے دور دراز دیہات میں محاصرہ بڑھا دیا ہے تاکہ ملی ٹینٹوں کو تلاش کر کے بے اثر کیا جا سکے۔حکام کے مطابق، منگل کے روز بلّاور تحصیل کے نجوٹ جنگلاتی علاقے میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے کے بعد سکیورٹی فورسز نے آپریشن شروع کیا، جس کے دوران کئی گولیوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ تاہم ملی ٹینٹ اور فورسز کے درمیان کوئی براہِ راست تصادم نہیں ہوا۔
تازہ اطلاعات کے مطابق ملی ٹینٹ نے دشوار گزار پہاڑی علاقہ اور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے محاصرے سے فرار ہونے میں کامیابی حاصل کر لی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نے آدھی رات کے قریب ایک قریبی علاقے میں ایک چرواہے سے کھانا لیا اور پھر جنگل کے اندر گہرائی میں چلا گیا۔آپریشن کو مؤثر بنانے کے لیے مختلف سمتوں میں اضافی نفری تعینات کی گئی ہے اور نجوٹ کے اطراف ایک درجن سے زائد دیہات کو محاصرے میں لے لیا گیا ہے تاکہ ملی ٹینٹ اور اس کے ساتھیوں کا سراغ لگایا جا سکے۔
ادھر جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشنز گروپ (SOG) نے راجباغ علاقے کے جکھولے بیرا اور ملحقہ دیہات میں بھی اس وقت سرچ آپریشن شروع کیا جب ایک مقامی شخص نے اپنی مویشیوں کی باڑ کے قریب دو مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کی اطلاع دی۔ تاہم تاحال ان مشتبہ افراد کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
یومِ جمہوریہ سے قبل جموں خطے میں، بالخصوص سرحدی دیہات اور بلند پہاڑی علاقوں میں، سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ ملی ٹینسی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران سرحد پار سے ڈرون کی بار بار دراندازی بھی ایک بڑا سکیورٹی چیلنج بن کر سامنے آئی ہے، جس کے پیشِ نظر حساس مقامات پر اضافی فورسز تعینات کی گئی ہیں۔حکام کے مطابق کسی بھی دراندازی کی کوشش یا اسلحہ اور منشیات کی فضائی ترسیل کو ناکام بنانے کے لیے گشت، علاقے پر کنٹرول کی مشقیں اور رات کے وقت نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
کٹھوعہ میں سکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن تیز، درجنوں دیہات محاصرے میں