عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر اسمبلی کے اندر آج سیلابی بحالی فنڈز کی تقسیم کے معاملے پر شدید گرما گرمی دیکھنے کو ملی، جب دو اپوزیشن بی جے پی ارکان راجیو جسروٹیہ اور پون گپتا نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری کے جواب پر ناراض ہوکر ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ دونوں ارکان نے حکومت پر جموں خطے کے ساتھ امتیاز برتنے کا الزام عائد کیا۔ایوان میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ مالی سال 2025-26 کے دوران سیلابی بحالی کے لیے مرکز کی جانب سے کوئی نیا فنڈ جاری نہیں ہوا۔ تاہم، انہوں نے بتایا کہ اس سال ایس ڈی آر ایف کے تحت 289.39 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ہر ضلع کے لیے 5 کروڑ روپے یعنی کل 100 کروڑ روپے یوٹی کیپیکس بجٹ کے تحت سیلابی بحالی اقدامات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
چودھری نے مزید وضاحت کی کہ جل شکتی ڈپارٹمنٹ کو فلوڈ مینجمنٹ اینڈ بارڈر ایریا پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کے لیے فنڈز ملے ہیں، جن میں 164.35 لاکھ روپے فلوڈ مینجمنٹ ورک اور 60 کروڑ 41 لاکھ روپے دریائے جہلم فیز-ٹو فلوڈ مینجمنٹ کے لیے شامل ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بین الوزارتی مرکزی ٹیم کی رپورٹ کی بنیاد پر مرکز نے 1431 کروڑ روپے ساسی اسکیم کے تحت الاٹ کیے ہیں، جو تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس موصول ہونے کے بعد متعلقہ محکموں کو منتقل کیے جائیں گے۔
بی جے پیارکان نے حکومتی موقف مسترد کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکز کی جانب سے 212 کروڑ روپے فوری ریلیف کے طور پر پہلے ہی فراہم کیے جا چکے تھے لیکن حکومت نے جموں کو خاطر خواہ حصہ نہیں دیا۔ جسروتیہ نے الزام لگایا کہ گزشتہ برس اگست-ستمبر میں شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے جموں میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا، مگر اس کے باوجود فنڈز زیادہ تر کشمیر کو دیے گئے، جو کھلا امتیاز ہے۔
نائب وزیر سریندر اعلی چودھری نے بی جے پی ارکان پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جموں اور کشمیر دونوں خطوں کو یکساں نظر سے دیکھتی ہے اور دربار موو بحالی کی مثال پیش کی۔ انہوں نے بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے نیشنل لا یونیورسٹی کے حالیہ مطالبے کا ذکر کیا اور کہا کہ انہی ارکان نے پہلے ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی بندش پر میٹھائیاں تقسیم کیں۔ایوان سے باہر میڈیا سے گفتگو میں جسروتیہ نے کہا کہ حکومت نے ان کے سوال کا براہ راست جواب نہیں دیا بلکہ معاملےگول مول کرنے کی کوشش کی ہے۔ پون گپتا نے بھی اپنے ساتھی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے حلقہ انتخاب ادھم پور کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن ایک پیسہ نہیں دیا گیا۔سیلابی فنڈز کی تقسیم پر یہ تنازع اسمبلی کے اندر سیاسی ماحول کو مزید تلخ کرتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ اپوزیشن نے واضح کر دیا ہے کہ ’امتیازی رویہ‘ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اسمبلی میں سیلابی فنڈز پر ہنگامہ، امتیاز کے الزام پر دو بی جے پی ارکان کا ایوان سے واک آؤٹ