عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/کشمیر (پالیسی اینڈ اسٹریٹیجی) گروپ کے چیئرمین اشوک بھان نے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں پائیدار امن، مفاہمت اور کشمیری پنڈتوں کی محفوظ و باعزت واپسی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں، خصوصاً جلاوطن کشمیری پنڈت برادری، کے ساتھ ایک بامعنی اور منظم مذاکراتی عمل شروع کرے۔گروپ ایگزیکٹو کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اشوک بھان نے کہا کہ جموں و کشمیر میں مستقل امن اور مفاہمت صرف انتظامی یا سیکورٹی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے سیاسی رسائی، جمہوری شمولیت، آئینی حساسیت اور تمام برادریوں میں عوامی اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بعض طبقات میں مسلسل غصہ، بیگانگی اور سیاسی بے چینی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اعتماد کی بحالی کے لیے فوری طور پر جامع مکالمے اور شراکتی سیاست کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام، خاص طور پر نوجوان نسل، عزت، سیاسی اختیار، معاشی مواقع اور اس یقین کی خواہاں ہے کہ جمہوری ادارے ان کی امنگوں کے تئیں جوابدہ رہیں گے۔
اشوک بھان نے مزید کہا کہ خاموشی، سیاسی خلا اور مسلسل رابطے کے فقدان سے عوام اور حکومتی اداروں کے درمیان بداعتمادی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جلاوطن کشمیری پنڈت برادری کا کشمیر کے ساتھ ایک وجودی اور تہذیبی رشتہ ہے، اس لیے خطے کے مستقبل سے متعلق کسی بھی بامعنی مذاکراتی عمل میں ان کی شمولیت ناگزیر ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی باعزت، محفوظ اور پائیدار واپسی کسی بھی جامع سیاسی حل کا لازمی حصہ ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق کشمیر میں مفاہمت یکطرفہ نہیں ہو سکتی بلکہ اس میں انصاف، تحفظ، بقائے باہمی اور دہائیوں کی تشدد و بے دخلی سے متاثر تمام برادریوں کے زخموں کا مداوا شامل ہونا چاہیے۔
اشوک بھان نے کہا کہ موجودہ مودی حکومت کو آر ایس ایس کے سینئر رہنما دتاتریہ ہوسبالے کے اس مشورے پر غور کرنا چاہیے کہ ’’اگرچہ پاکستان ایک مستقل چبھنے والا کانٹا ہے، پھر بھی بات چیت اور روابط کی کھڑکی کھلی رہنی چاہیے۔‘‘انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ مین اسٹریم سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، نوجوان نمائندوں، اقلیتوں، بے گھر افراد اور دیگر تمام متعلقہ فریقوں کو شامل کرتے ہوئے ایک قابلِ اعتماد مذاکراتی فریم ورک تشکیل دے۔
اشوک بھان نے کہا کہ جموں و کشمیر میں دیرپا امن صرف جمہوری مکالمے، آئینی ہم آہنگی اور شراکتی سیاست پر عوام کے اعتماد کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مفاہمت کا راستہ تصادم یا اخراج میں نہیں بلکہ رابطے، ہمدردی اور کشمیر کی تکثیری اور جامع شناخت کے تحفظ کے قومی عزم میں پوشیدہ ہے۔‘‘