عظمیٰ ویب ڈیسک
گول/گول میں مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں کے نمائندگان نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گول سنگلدان کو الگ انتخابی حلقہ بنانے کے دیرینہ مطالبے کو ایک بار پھر بھرپور انداز میں دہرایا۔ مقررین نے کہا کہ ماضی کی حلقہ بندیوں کے دوران اس اہم اور وسیع علاقے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں گول نہ صرف اپنی تاریخی و سیاسی شناخت کھو بیٹھا بلکہ اسمبلی نقشے پر اس کی نمائندگی بھی تقریباً ختم ہو گئی۔
لیڈران نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بار بار کی اس ناانصافی نے علاقے کی ترقی کو بری طرح متاثر کیا ہے اور یہاں کے عوام بنیادی سہولیات اور موثر نمائندگی سے محروم ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ گول سنگلدان آبادی، جغرافیائی وسعت اور پسماندگی کے لحاظ سے ایک الگ اسمبلی حلقے کا مکمل حقدار ہے۔
پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر اس دیرینہ اور جائز مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے گول کو علیحدہ اسمبلی حلقہ قرار دے، تاکہ اس دور دراز علاقے کے عوام کو مناسب نمائندگی مل سکے اور ان کے مسائل مؤثر طریقے سے ایوانِ اقتدار تک پہنچ سکیں۔
اس موقع پر سابق ڈی ڈی سی چیئرپرسن رام بن، نیشنل کانفرنس کی سینئر لیڈر ڈاکٹر شمشادہ شان، کانگریس کے رہنما بشیر احمد بٹ ، بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنان سمیت مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے سرکردہ رہنما بھی موجود تھے۔
گول کی سیاسی شناخت بحالی کے لیے مشترکہ آواز بلند،تمام سیاسی و سماجی تنظیموں نے علیحدہ اسمبلی حلقے کا کیا مطالبہ