عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/ہماچل پردیش کے گورنر کویندر گپتا نے جمعرات کو قومی راجدھانی میں وشو ہندو پیٹھ کے صدر آچاریہ مدن کی تصنیف کردہ کتاب ’شاردا پیٹھ-ستی دیش کشمیر‘کا اجراء کیا۔گورنر نے اس موقع پر کتاب کو جموں و کشمیر کے قدیم روحانی، ثقافتی اور تعلیمی ورثے کی ایک اہم دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا کہ شاردا پیٹھ ہندوستان کی شاندار تہذیب اور سناتن روایت کے علم کے ابدی مراکز میں سے ایک رہا ہے۔ انہوں نے آچاریہ مدن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ تحقیقی کتاب شاردا پیٹھ کی تاریخی، مذہبی اور ثقافتی اہمیت کے ساتھ ساتھ کشمیر کی شناخت سے اس کے گہرے تعلق کو مؤثر طریقے سے پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کا ادب نوجوان نسل کو قوم کے بھرپور ورثے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
گپتا نے کہا کہ کشمیر تاریخی طور پر تعلیم اور روحانیت کا ایک بڑا مرکز رہا ہے اور شاردا پیٹھ برصغیر ہند کے علماء، بزرگوں اور سادھوؤں کے درمیان ایک انتہائی معزز مقام رکھتا ہے۔ کتاب میں کشمیر کے شاندار ماضی، شاردا تہذیب، ثقافتی علم اور ماں شاردا سے وابستہ قدیم روایات سے متعلق اہم معلومات یکجا کی گئی ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کتاب بامعنی تعلیمی مباحثے کی ترغیب دے گی اور کشمیر کے قدیم ورثے اور روحانی روایات کے گہرے مطالعہ کو فروغ دے گی۔ پروگرام میں شاردا ہندو پیٹھ سے وابستہ دانشور، مفکرین اور عقیدت مندوں کے ساتھ جسبیر سنگھ کھرانہ اور سنجے کمار مینی بھی موجود تھے۔
کویندر گپتا نے ’شاردا پیٹھ-ستی دیش کشمیر‘کتاب کا اجراء کیا