عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/نئی دہلی/حکام نے اتوار کو یہ دعویٰ کیاہے دہلی کے لال قلعہ کے قریب گزشتہ سال 10 نومبر کو ہوئے دھماکے سے جڑے ’’وائٹ کالر‘‘ملی ٹینٹ ماڈیول کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹروں نے پاکستانی ہینڈلرز سے رابطے کے لیے ’’گھوسٹ‘‘سم کارڈز اور خفیہ ایپس کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک استعمال کیاہے۔تحقیقات کے نتائج ہی کی بنیاد پر محکمۂ ٹیلی کمیونی کیشن (DoT) نے گزشتہ سال 28 نومبر کو ایک جامع ہدایت جاری کی، جس کے تحت واٹس ایپ، ٹیلیگرام اور سگنل جیسی ایپ بیسڈ کمیونی کیشن سروسز کو لازمی طور پر ڈیوائس میں موجود ایک فعال، فزیکل سم کارڈ کے ساتھ مسلسل منسلک رکھنا ہوگا۔
حکام کے مطابق اس ’’وائٹ کالر‘‘ملی ٹینٹ ماڈیول اور دھماکے کی تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ گرفتار ڈاکٹروںنے سکیورٹی ایجنسیوں سے بچنے کے لیے ایک حکمتِ عملی کے تحت ’’ڈوئل فون‘‘ پروٹوکول اپنایا اور گھوسٹ سم کارڈز استعمال کئے۔ہر ملزم، بشمول ڈاکٹر عمر النبی (جو لال قلعہ کے قریب دھماکہ خیز مواد سے لدی گاڑی چلاتے ہوئے مارا گیا)، دو سے تین موبائل فون ساتھ رکھتا تھا۔حکام نے بتایا کہ ایک ’’کلین‘‘فون ان کے اپنے نام پر رجسٹرڈ ہوتا تھا، جسے روزمرہ ذاتی اور پیشہ ورانہ استعمال کے لیے رکھا جاتا تاکہ کسی قسم کا شبہ نہ ہو، جبکہ دوسرا ’’ٹیرر فون‘‘ہوتا تھا جو صرف واٹس ایپ اور ٹیلیگرام کے ذریعے پاکستان میں موجود ہینڈلرز سے رابطے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ان ثانوی فونز میں استعمال ہونے والے سم کارڈز ایسے بے خبر شہریوں کے نام پر جاری کیے گئے تھے جن کے آدھار تفصیلات کا غلط استعمال کیا گیا۔جموں و کشمیر پولیس نے ایک الگ ریکٹ کا بھی پردہ فاش کیا، جس میں جعلی آدھار کارڈز کے ذریعے سم کارڈز جاری کیے جا رہے تھے۔
حکام کے مطابق سکیورٹی ایجنسیوں نے ایک تشویشناک رجحان نوٹ کیا کہ یہ متاثرہ سم کارڈز میسجنگ پلیٹ فارمز پر پاکستان زیر انتظام (PoK) یا پاکستان میں سرحد پار بھی فعال رہتے تھے۔ایپس کی اُن خصوصیات کا فائدہ اٹھا کر، جن کے ذریعے بغیر فزیکل سم کے بھی ایپس چل سکتی ہیں، ہینڈلرز نے اس ماڈیول کو یوٹیوب کے ذریعے آئی ای ڈی بنانے کی تربیت دی اور ’’ہنٹر لینڈ‘‘حملوں کی منصوبہ بندی کروائی، حالانکہ بھرتی ہونے والے افراد ابتدا میں شام یا افغانستان کے تنازعاتی علاقوں میں شامل ہونا چاہتے تھے۔
ان سکیورٹی خامیوں کو بند کرنے کے لیے مرکز نے ٹیلی کمیونی کیشن ایکٹ 2023 اور ٹیلی کام سائبر سکیورٹی قواعد کو نافذ کیا ہے، تاکہ ’’ٹیلی کام ایکو سسٹم کی سالمیت کو محفوظ بنایا جا سکے‘‘۔ اس کے تحت ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ 90 دن کے اندر تمام ٹیلی کمیونی کیشن آئیڈنٹیفائر یوزر اینٹیٹیز (TIUEs) کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی ایپس صرف اسی صورت کام کریں جب ڈیوائس میں ایک فعال سم نصب ہو۔
حکم نامے میں یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ اگر ڈیوائس میں فعال سم موجود نہ ہو تو ٹیلی کام آپریٹرز واٹس ایپ، ٹیلیگرام اور سگنل جیسی ایپس سے صارفین کو خودکار طور پر لاگ آؤٹ کر دیں۔ حکام نے مزید بتایا کہ اسنیپ چیٹ، شیئرچیٹ اور جیوچیٹ سمیت تمام سروس فراہم کنندگان کو DoT میں تعمیلی رپورٹس جمع کرانی ہوں گی۔ڈاٹ کے بیان کے مطابق، بغیر سم کے ایپس کے استعمال کی یہ سہولت ٹیلی کام سائبر سکیورٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، کیونکہ اس کا غلط استعمال بیرونِ ملک سے سائبر فراڈ اور ملی ٹینسی سرگرمیوں کے لیے کیا جا رہا ہے۔یہ ہدایت خاص طور پر جموں و کشمیر ٹیلی کام سرکل میں تیزی سے نافذ کی جا رہی ہے۔ اگرچہ حکام تسلیم کرتے ہیں کہ تمام زائدالمیعاد یا جعلی سم کارڈز کو غیر فعال کرنے میں وقت لگے گا، تاہم اس اقدام کو ملی ٹینٹ ورکس کے ڈیجیٹل ڈھانچے پر ایک کاری ضرب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو ’’وائٹ کالر‘‘کارکنوں کو انتہاپسند بنانے اور منظم کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
ان قواعد کی خلاف ورزی کی صورت میں ٹیلی کام سائبر سکیورٹی قواعد اور دیگر قابلِ اطلاق قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔’’وائٹ کالر‘‘ملی ٹینٹ ماڈیول کا پردہ اس وقت فاش ہونا شروع ہوا جب 18-19 اکتوبر 2025 کی درمیانی رات سری نگر شہر کے مضافات میں کالعدم تنظیم جیشِ محمد کے پوسٹر دیواروں پر نمودار ہوئے، جن میں وادی میں پولیس اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔اسے ایک سنگین معاملہ سمجھتے ہوئے، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سری نگر، جی وی سندیپ چکرورتی نے کئی ٹیمیں تشکیل دیں تاکہ معاملے کی گہرائی سے تفتیش کی جا سکے۔
گرفتار ملزمان کے بیانات کو جوڑنے کے بعد تفتیش سری نگر پولیس کو ہریانہ کے فرید آباد میں واقع الفلاح یونیورسٹی تک لے گئی، جہاں دو ڈاکٹروں مزمل گنائی (جن کا تعلق جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کوئل علاقے سے ہے) اور لکھنؤ کی شاہین سعید کو گرفتار کیا گیا۔ اس دوران اسلحہ اور گولہ بارود کی ایک بڑی مقدار بھی برآمد کی گئی، جن میں 2,900 کلوگرام امونیم نائٹریٹ، پوٹاشیم نائٹریٹ اور گندھک شامل ہیں۔لال قلعہ کے قریب کار دھماکے میں 15 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کیس کی تفتیش قومی تحقیقاتی ایجنسی کر رہی ہے۔
لال قلعہ دھماکہ: ملزمان نے پاکستانی ہینڈلرز سے رابطے کے لیے ‘گھوسٹ’ سم کارڈز استعمال کیے