عظمیٰ ویب ڈیسک
بانہال/ضلع رام بن کے رامسو علاقے میں پیر کے روز بھی کشیدگی برقرار رہی جب 25 سالہ نوجوان تنویر احمد چوپان، ساکن پوگل، اتوار کی شام مبینہ طور پر کچھ شرپسند عناصر سے بچنے کی کوشش میں نالہ بشلری میں چھلانگ لگانے کے بعد لاپتہ ہو گیا۔اس واقعے کے بعد شدید عوامی غم و غصہ دیکھنے کو ملا، جس کے تحت مقامی لوگوں نے مکرکوٹ میں بی ڈی او دفتر کے قریب جموںسری نگر قومی شاہراہ پر احتجاجی دھرنا دیا۔ پیر کی صبح مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے سڑک پر بیٹھ کر ٹریفک کو ایک گھنٹے سے زائد وقت تک معطل رکھا، جس سے شاہراہ پر شدید خلل پیدا ہوا۔
پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر نمبر 26/2026 تھانہ رامسو میں درج کر کے چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گرفتار شدگان کی شناخت سری رام بن کے رہائشی سرجیت سنگھ اور سندیپ سنگھ جبکہ رام بن قصبے کے رہائشی دگ وجے سنگھ اور کیول سنگھ کے طور پر ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان کو اس وقت بانہال پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق تنویر احمد چوپان جموں سے اپنے آبائی گاؤں منڈکھال، پوگل جا رہا تھا کہمکرکوٹ کے قریب مبینہ طور پر گاؤ رکشا کے نام پر سرگرم ایک گروہ نے اس کا پیچھا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔ جان بچانے کی کوشش میں اس نے مبینہ طور پرمکرکوٹ ٹنل نمبر 5 کے قریب نالہ بشلری میں چھلانگ لگا دی، جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہے۔
احتجاجی مظاہرین نے مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث تمام افراد کی گرفتاری اور نالہ بشلری میں ریسکیو آپریشن فوری طور پر دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتوار کی رات 9 بجے اندھیرے کی وجہ سے آپریشن روک دیا گیا تھا۔ مظاہرین نے شفافیت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گرفتار افراد کو رامسو تھانے میں نہیں رکھا گیا اور ایف آئی آر کی کاپی عوام کو فراہم نہیں کی گئی۔
واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی رام بن ارون گپتا نے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے جس کی سربراہی ایس ڈی پی او بانہال سریندر سنگھ بلوریا کر رہے ہیں۔ ایڈیشنل ایس پی رام بن مجیب الرحمٰن اور ایس ڈی ایم رامسو سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے جائے احتجاج کا دورہ کیا اور مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ احتجاج ختم کر کے ٹریفک کی بحالی میں تعاون کریں۔
موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایس آئی ٹی کے سربراہ سریندر سنگھ بلوریا نے کہا کہ کیس کے تمام پہلوؤں کی مکمل جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی الزامات کو بھی سنجیدگی سے لیا جائے گا اور ان حالات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی جن میں نوجوان نے نالے میں چھلانگ لگائی ہے۔ انہوں نے عوام سے پولیس کے ساتھ تعاون کرنے اور شاہراہ بند نہ کرنے کی اپیل بھی کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کی ٹیم مکرکوٹ پہنچ چکی ہے اور ریسکیو آپریشن، جو اتوار کی رات اندھیرے کے باعث روک دیا گیا تھا، دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔
دریں اثنا، افواہوں کو روکنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضلع رام بن میں انٹرنیٹ سروس کی رفتار کو محدودکر دیا گیا ہے۔ادھر، ٹریڈرز فیڈریشن بانہال کے صدر انجینئر شاداب احمد وانی نے اس واقعے کے خلاف پیر کے روز ہڑتال کی کال دی تھی، تاہم انتظامیہ کی جانب سے شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کے بعد اتوار کی رات دیر گئے یہ کال واپس لے لی گئی۔
رامسو واقعہ : احتجاج کے باعث جموں سرینگرقومی شاہراہ بند ، تحقیقات جاری، چار گرفتار،رام بن ضلع میں انٹرنیٹ سروس کی رفتار محدود