عظمیٰ ویب ڈیسک
اودھم پور /اودھم پور پولیس نے حال ہی میں درج ایک مقدمے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مبینہ تبدیلیٔ مذہب کے زاویے کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔پولیس کے ایک بیان کے مطابق، ایف آئی آر نمبر 175/2026 مؤرخہ 26 اپریل 2026 کو پولیس اسٹیشن اودھم پور میں ایک شکایت گزار کی تحریری درخواست کی بنیاد پر درج کی گئی تھی۔
ایف آئی آر میں بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کی دفعات 351، 352، 137(2) اور 62 کے ساتھ ساتھ ایس سی/ایس ٹی (انسدادِ مظالم) ایکٹ کی دفعات 3(1)(r)، 3(1)(s) اور 3(1)(za)(A) شامل ہیں۔پولیس کے مطابق شکایت میں مجرمانہ دھمکی، بدسلوکی، حملہ اور اغوا کی کوشش جیسے الزامات شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ قانون کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات ایک گزٹیڈ افسر کی نگرانی میں جاری ہیں۔
پولیس نے عوام کو خبردار کیا کہ وہ اس کیس سے متعلق غیر مصدقہ، فرقہ وارانہ یا گمراہ کن مواد نہ پھیلائیں اور نہ ہی اس پر یقین کریں، کیونکہ ایسی غلط معلومات عوامی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہیں۔پولیس نے کہا، ’’اس مرحلے پر غیر مصدقہ، فرقہ وارانہ یا گمراہ کن مواد پھیلانا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے اور اس سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔‘‘بیان میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ تحقیقات کو قانون کے مطابق منصفانہ اور غیر جانبدار طریقے سے مکمل ہونے دیں۔
اودھم پور واقعہ:پولیس نے تبدیلیٔ مذہب کی افواہوں کو گمراہ کن اور بے بنیادقرار دیا