عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/سابق وزیر اور پی ڈی پی کے سینئر رہنما نعیم اختر نے ضلع اسپتال بانڈی پورہ میں جان بچانے والی دوا ایریتھروپوئیٹن (EPO)انجیکشن کی مبینہ قلت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورتحال ڈائیلاسس کے مریضوں کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔اپنے ایک بیان میں نعیم اختر نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ گردوں کی دائمی بیماری (CKD)میں مبتلا اور اسپتال میں ڈائیلاسس کروانے والے مریضوں کو سرکاری اسپتال میں دوا دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مہنگے انجیکشن بازار سے خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ اتنی ضروری دوا تقریباً ایک ماہ سے دستیاب نہیں جبکہ مریض مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ڈائیلاسس کے مریض پہلے ہی جسمانی اور مالی پریشانیوں سے گزر رہے ہوتے ہیں اور انہیں بازار سے مہنگے انجیکشن خریدنے پر مجبور کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔نعیم اختر نے کہا کہ اس واقعے سے ضلع کی صحت انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب چیف میڈیکل آفیسرضلع میں موجود ہیں لیکن انہیں اپنے ہی ادارے میں پیش آنے والی صورتحال کا علم نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ واضح انتظامی غفلت اور مناسب نگرانی کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر ضروری ادویات ہفتوں تک ختم رہیں تو یہ نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سابق وزیر نے وزیر صحت سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور انجیکشن کی قلت کے حوالے سے مکمل تحقیقات کا حکم دیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر صحت کو فوری مداخلت کرنی چاہیے اور ذمہ داری طے کرنی چاہیے۔ ڈائیلاسس کے مریضوں کی جانوں سے کھیلنا ناقابل قبول ہے اور اس غفلت کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔نعیم اختر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام سرکاری اسپتالوں میں زندگی بچانے والی ادویات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ سنگین بیماریوں میں مبتلا مریض انتظامی کوتاہیوں کی وجہ سے مزید مشکلات کا شکار نہ ہوں۔
ڈی ایچ بانڈی پورہ میں ای پی او انجیکشن کی قلت پر نعیم اختر کا سخت ردِعمل، فوری کارروائی کا مطالبہ