عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ایم ایل اے وحید الرحمان پرہ نے ہفتہ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر میں اپوزیشن رہنماؤں کی سکیورٹی میں کمی ایک سنگین معاملہ ہے اور اس سے ان کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے پلوامہ کے رکن اسمبلی نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سکیورٹی ایک حفاظتی حصار کے طور پر کام کرتی ہے، خاص طور پر اُن سیاسی رہنماؤں کے لیے جنہیں خطرات لاحق ہوتے ہیں، اور اس میں کسی بھی قسم کی کمی نہ صرف غیر ضروری بلکہ خطرناک بھی ہے۔
انہوں نے فاروق عبداللہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سینئر رہنماؤں کو مناسب احترام اور خاطر خواہ سکیورٹی فراہم کی جانی چاہیے، اور یہ مسئلہ صرف افراد تک محدود نہیں بلکہ تمام اپوزیشن قیادت کی حفاظت سے جڑا ہوا ہے۔
پرہ نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے سوال کیا کہ سکیورٹی معاملات میں امتیازی رویہ کیوں اختیار کیا جا رہا ہے، اور الزام لگایا کہ اپوزیشن کی آوازوں کو دانستہ طور پر خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو فراہم کی گئی سکیورٹی اور سرکاری رہائش کی سہولت پہلے ہی واپس لی جا چکی ہے، جسے انہوں نے انہیں سیاسی طور پر خاموش کرانے کی کوشش قرار دیا۔
ایم ایل اے پرہ نے خبردار کیا کہ اگر اپوزیشن رہنماؤں کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی، اور کہا کہ سیاسی شخصیات، خصوصاً سابق وزرائے اعلیٰ کی سکیورٹی میں کمی ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہے جس کی فوری وضاحت ضروری ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کی سکیورٹی میں کمی ناقابل قبول: وحید الرحمان پرہ