عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کے قیام (اکتوبر 2024) کے بعد اب تک 1400 سے زائد غیر قانونی ڈھانچوں کو منہدم کیا گیا ہے۔ یہ اطلاع جمعرات کو اسمبلی میں دی گئی۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پی ڈی پی کے رکن اسمبلی میر محمد فیاض کے سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ منہدم کی گئی املاک میں صحافی ارفاض احمد ڈینگ کا جموں میں واقع مکان بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی سے قبل جموں و کشمیر پبلک پریمیسز (غیر مجاز قابضین کی بے دخلی) ایکٹ 1988 اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت مکمل قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق ڈینگ نے 19 نومبر 2025 کو اپنے تحریری بیان میں اس زمین یا جائیداد سے کسی بھی قسم کے تعلق سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسماری کی کارروائی متعلقہ محکمہ مال سے تصدیق اور ضابطہ کار پر مکمل عمل کے بعد 27 نومبر کو انجام دی گئی۔ یہ مکان جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے منہدم کیا تھا۔عمر عبداللہ، جو محکمہ ہاؤسنگ و شہری ترقی کے انچارج بھی ہیں، نے کہا کہ بغیر مناسب اجازت کے کسی بھی تعمیر کی اجازت نہیں دی جاتی اور مسماری کی مہم متعلقہ ریونیو حکام کی تصدیق اور قانونی طریقہ کار کے مطابق ہی چلائی جاتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 1,194 رہائشی اور 231 تجارتی ڈھانچے گرائے گئے۔ سب سے زیادہ کارروائیاں سری نگر میں ہوئیں جہاں 1,133 ڈھانچے، جن میں 119 تجارتی عمارتیں شامل ہیں، جے کے لیک کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی، سری نگر میونسپل کارپوریشن اور سری نگر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے مسمار کیے۔
جموں ضلع میں 237 ڈھانچے، جن میں 75 تجارتی عمارتیں شامل ہیں، جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی، جموں میونسپل کارپوریشن اور محکمہ مال نے منہدم کیے۔ رام بن میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا نے 19، اننت ناگ میں پہلگام ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے 10، کٹھوعہ میں 7 اور شوپیان میں 4 ڈھانچے گرائے گئے۔اسی طرح کولگام، گاندربل اور ادھم پور میں تین تین، بڈگام میں دو جبکہ بارہمولہ اور کپواڑہ میں ایک ایک ڈھانچہ منہدم کیا گیا۔ بارہمولہ میں ایک تجارتی جائیداد اور گاندربل میں تین مکانات ہائی کورٹ کی ہدایت پر گرائے گئے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تجاوزات کو باقاعدگی سے جے کے پبلک پریمیسز ایکٹ 1988 اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت ہٹایا جاتا ہے جبکہ غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کنٹرول آف بلڈنگ آپریشنز (COBO) ایکٹ 1988 کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔ اس عمل میں نوٹس جاری کرنا، سیل کرنا اور انسداد تجاوزات و مسماری مہم شامل ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ قوانین کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں یا قابضین کو مناسب وقت دیا جاتا ہے۔ غیر قانونی تعمیرات کی اجازت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ بغیر اجازت کوئی تعمیر منظور نہیں کی جاتی، تاہم بعض اوقات عدالتی مداخلت، بروقت پولیس مدد نہ ملنے، غیر معمولی اوقات میں تعمیر اور منظور شدہ نقشوں سے انحراف کی وجہ سے تاخیر ہو جاتی ہے، جس سے بعض افراد مزید تعمیر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
اکتوبر 2024 کے بعد اب تک جموں و کشمیر میں 1400 سے زائد غیر قانونی تعمیرات منہدم کیا گیا : حکومت