عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/حکومتِ جموں و کشمیر نے جمعہ کے روز ایوان کو مطلع کیا کہ رواں مالی سال 2025-26 (تاحال) کے دوران شادی امداد اسکیم کے تحت 44,301 مستفیدین کو شامل کیا گیا ہے اور اب تک 234 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ لاڈلی بیٹی اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 1,98,024 مستفیدین کو منظوری دی گئی ہے اور 300 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے ہیں۔ایم ایل اے وحید الرحمٰن پرہ کی جانب سے شادی امداد اسکیم اور لاڈلی بیٹی اسکیم کے تحت مالی معاونت سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر برائے محکمہ سماجی بہبود نےکہا گزشتہ تین برسوں کے دوران مستفیدین اور جاری شدہ رقومات کی ضلع وار تفصیلات پیش کیں۔
جواب کے مطابق مالی سال 2023-24 میں شادی امداد اسکیم کے تحت 26,000 مستفیدین کو 130 کروڑ روپے فراہم کیے گئے، جبکہ 2024-25 میں بھی اتنی ہی تعداد یعنی 26,000 مستفیدین کو 130 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔حکومت نے مزید بتایا کہ 2025-26 (تاحال) میں 44,301 مستفیدین کو شامل کیا گیا ہے اور 234 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس رقم میں 70.08 کروڑ روپے کے وہ بل بھی شامل ہیں جو ادائیگی کے لیے محکمہ خزانہ میں زیرِ التوا ہیں۔
حکومت کی جانب سے پیش کردہ ضلع وار اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران سری نگر میں 2,504، اننت ناگ میں 4,308، بڈگام میں 4,255، بارہمولہ میں 3,855، کپواڑہ میں 3,426 اور کٹھوعہ میں 2,449 مستفیدین شامل ہیں، جو زیادہ تعداد والے اضلاع میں شمار ہوتے ہیں۔دریں اثنالاڈلی بیٹی اسکیم کے تحت 2023-24 میں 1,41,085 مستفیدین کو منظوری دی گئی اور 213.75 کروڑ روپے جاری کیے گئے، جبکہ 2024-25 میں 1,76,126 مستفیدین کو منظوری دے کر 150 کروڑ روپے فراہم کیے گئے۔
رواں مالی سال 2025-26 (تاحال) میں اس اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 1,98,024 مستفیدین کو منظوری دی گئی ہے اور 300 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ جواب میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس رقم میں 200 کروڑ روپے کے وہ بل شامل ہیں جو منظور شدہ مستفیدین کو مزید ادائیگی کے لیے جے اینڈ کے بینک کے زیرِ انتظام پول اکاؤنٹ میں منتقل کیے جانے کے لیے محکمہ خزانہ میں زیرِ التوا ہیں۔
تین برسوں میں شادی امداد اور لاڈلی بیٹی اسکیموں پر 1100 کروڑ روپے سے زائد خرچ: حکومت