عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ مجوزہ حد بندی (ڈی لیمٹیشن) بل پر انڈیا بلاک کو مشترکہ طور پر اپنا ردعمل طے کرنا ہوگا، اور اس بات پر زور دیا کہ ایک متحد موقف نہایت ضروری ہے۔سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ماضی کی حد بندی مشقوں پر تشویش کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ حلقہ بندیوں کی از سر نو ترتیب سے بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو سیاسی فائدہ پہنچایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ دہلی میں ہونے والے انڈیا بلاک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، جو کانگریس صدر ملکارجن کھڑے کی رہائش گاہ پر منعقد ہوگا، جہاں اپوزیشن جماعتیں مجوزہ بل پر مشترکہ حکمت عملی طے کریں گی۔انہوں نے کہا کہ انڈیا بلاک کو مل کر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس بل پر ان کا ردعمل کیا ہوگا اور پارلیمنٹ میں ان کا کردار کیا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انفرادی جماعتوں کا الگ الگ عمل مؤثر ثابت نہیں ہوگا اور اتحاد کے اندر اجتماعی فیصلہ سازی ناگزیر ہے۔
ماضی کی حد بندی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نشستوں کی تقسیم، حلقوں کی تشکیل، نقشوں کی ترتیب اور ووٹروں کی منتقلی کا مقصد صرف یہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمانی ڈھانچے میں مجوزہ تبدیلیاں، جن میں لوک سبھا کے ارکان کی تعداد میں اضافہ اور خواتین کی نمائندگی سے متعلق دفعات شامل ہیں، ان کا بھی اپوزیشن اتحاد کی جانب سے مشترکہ طور پر جائزہ لیا جائے گا۔
مجوزہ حدبندی:اپوزیشن کو مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہوگا: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ