عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ حکومت سیاحت کے فروغ اور روایتی دستکاریوں کی بحالی کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ سرمایہ کاری اور عملدرآمد میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایک نئی صنعتی ترغیبی پالیسی بھی تیار کی جا رہی ہے۔سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاحتی سیزن کا آغازاِندراگاندھی میموریل ٹولپ گارڈن کے کھلنے سے ہوا، جو آج بند ہونے جا رہا ہے، اور سیاحوں کے لیے نئے تجربات متعارف کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا، ہم سیاحوں کے لیے نئی چیزیں لا رہے ہیں۔ ایک ہی جگہ پر کشمیری دستکاری جیسے شالیں، لکڑی کی نقاشی اور تانبے کا کام پیش کیا جا رہا ہے تاکہ زائرین مقامی ہنر سے واقف ہو سکیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت ’’Know Your Artisan‘‘پروگرام کو فروغ دے رہی ہے تاکہ سیاحوں اور مقامی لوگوں کو ہنرمندوں سے جوڑا جا سکے اور ان کی مہارت کو اجاگر کیا جا سکے۔انہوں نے کہا، ہمیں اندازہ نہیں کہ ہمارے کاریگروں کے ہاتھوں میں کتنی مہارت ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ نہ صرف سیاح بلکہ مقامی لوگ بھی ان اقدامات سے فائدہ اٹھائیں۔
انہوں نے روایتی بازاروں کے زوال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک تاریخی مارکیٹ وقت کے ساتھ غیر فعال ہو چکی ہے۔ان کا کہنا تھا، 80 سے زائد دکانیں بند ہو چکی ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کاریگر کہاں گئے اور انہیں دوبارہ نظام میں کیسے لایا جائے۔صنعتی ترقی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سابقہ ترغیبی پالیسی ستمبر میں ختم ہو چکی ہے اور اب ایک نئی پالیسی اسٹیک ہولڈرز کی آراء کی بنیاد پر تیار کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہااگر ترغیبات صرف کاغذوں تک محدود رہیں اور زمین پر نظر نہ آئیں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہم موجودہ صنعت کاروں اور ممکنہ سرمایہ کاروں دونوں سے مشاورت کر رہے ہیں تاکہ ایک مؤثر پالیسی تیار کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مقصد بہتر عملدرآمد کو یقینی بنانا اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے، جبکہ محکمہ صنعت و تجارت اس حوالے سے تجاویز اکٹھی کر رہا ہے۔
حکومت سیاحت کے فروغ اور روایتی دستکاریوں کی بحالی کیلئے اقدامات کر رہی ہے : عمر عبداللہ