عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر حکومت نے بدھ کے روز کہا کہ نوجوان وکلاء، جنہیں قانونی پریکٹس کرتے ہوئے تین سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے، کو ماہانہ مالی امداد فراہم کرنے سے متعلق فی الوقت کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔یہ جانکاری محکمہ قانون، انصاف و پارلیمانی امور کی جانب سے اسمبلی سوال نمبر 922 کے جواب میں دی گئی، جو ایم ایل اے شمیم فردوس نے اٹھایا تھا۔ وزیر انچارج نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا حکومت نوجوان وکلاء کو مالی امداد فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس کی کوئی ٹائم لائن ہے یا نہیں، واضح کیا کہ اس سلسلے میں فی الحال کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
حکومت نے مزید وضاحت کی کہ اگرچہ وکلاء کو بعض اقسام کی معاونت فراہم کی جاتی ہے، تاہم کسی ایک پیشہ ور طبقے کو باقاعدہ مالی امداد دینے سے دیگر پیشہ ور اور تکنوکریٹ گروپوں کی جانب سے بھی اسی نوعیت کے مطالبات سامنے آ سکتے ہیں، جن میں سے بہت سے لائسنس یافتہ ہونے کے باوجود کسی مالی امداد سے مستفید نہیں ہوتے۔جواب میں کہا گیا کہ اس طرح کا اقدام حکومت کے لیے سنگین مالی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔
نوجوان وکلاء کو ماہانہ مالی امداد دینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں: حکومت جموں کشمیر