عظمیٰ ویب ڈیسک
سوپور/بھارتیہ جنتا پارٹی جموں و کشمیر کے جنرل سیکریٹری اشوک کول نے پیر کے روز کہا کہ کوئی بھی حکومت صرف قانون سازی کے ذریعے شراب نوشی کو مکمل طور پر نہیں روک سکتی، بلکہ اس کے لیے عوامی بیداری انتہائی ضروری ہے تاکہ شراب اور منشیات کے استعمال پر قابو پایا جا سکے۔نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے اشوک کول نےکہا کہ شراب اور منشیات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے بیداری مہمات ناگزیر ہیں اور صرف قوانین کے ذریعے ان برائیوں کا خاتمہ ممکن نہیں۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کی حکومتیں صرف قانون نافذ کر کے شراب نوشی کو مکمل طور پر ختم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’شراب اور منشیات کے استعمال کو روکنے کے لیے بیداری ضروری ہے۔ کسی بھی حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ صرف قانون بنا کر لوگوں کو شراب نوشی سے مکمل طور پر باز رکھ سکے۔ جہاں جہاں ایسے قوانین نافذ کیے گئے، وہاں حالات مزید خراب ہوئے۔‘‘
وزیر سکینہ ایتو کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اشوک کول نے کہا کہ منشیات کے خلاف کارروائی جموں میں پہلے شروع کی گئی تھی، بعد میں اسے کشمیر تک وسعت دی گئی، لہٰذا اسے مذہبی نقطۂ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
بی جے پی رہنما نے انسدادِ منشیات مہم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات ضروری ہیں تاکہ ان میں خوف پیدا ہو۔انہوں نے کہا، ’’یہ ضروری ہے، اگر ایسا نہ کیا جائے تو یہ کیسے رکے گا؟ اگر ان میں خوف نہیں ہوگا تو وہ ہمارے مستقبل کو تباہ کر دیں گے۔‘‘
صرف قوانین کے ذریعے شراب اور منشیات کا خاتمہ ناممکن ، عوامی بیداری انتہائی ناگزیر: اشوک کول