عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے ترجمان اعلیٰ اور زڈی بل کے رکنِ اسمبلی تنویر صادق نے جموں و کشمیر اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں مرکز سے شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کورس کی اجازت واپس لینے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) نے کم از کم معیارات پر عدم تعمیل، اساتذہ کی شدید کمی، ناکافی کلینیکل میٹیریل اور بنیادی ڈھانچے میں خامیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کالج کو جاری کیا گیا لیٹر آف پرمیشن واپس لے لیا تھا۔
ذرائع کے مطابق تنویر صادق کی نجی قرارداد میں ایوان سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مرکزی حکومت اور نیشنل میڈیکل کمیشن سے فوری طور پر لیٹر آف پرمیشن کی واپسی کے فیصلے پر نظرِ ثانی اور اس پر دوبارہ غور کرنے کا مطالبہ کرے۔
این ایم سی کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ایم بی بی ایس کورس میں بڑی تعداد میں غیر ہندو امیدواروں کے داخلے کے خلاف دائیں بازو کی تنظیموں نے احتجاج کیا تھا۔ اس تنازع کے آئندہ ماہ ہونے والے جموں و کشمیر اسمبلی کے بجٹ اجلاس کی ابتدائی کارروائیوں پر حاوی رہنے کا امکان ہے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گورننگ باڈی کی جانب سے منصفانہ اور شفاف انداز میں ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور وسیع تر عوامی مفاد میں ایس ایم وی ڈی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلینس میں ایم بی بی ایس کورس کی بحالی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔
قرارداد میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ایس ایم وی ڈی آئی ایم ای کو جموں و کشمیر کے عوام کی صحت اور طبی تعلیم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، جس کی ترقی میں عوامی فنڈز اور بنیادی ڈھانچے کی نمایاں معاونت شامل رہی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ اگر کسی قسم کی ضابطہ جاتی خامیاں موجود تھیں تو انہیں اصلاحی اقدامات اور تعمیل کے لیے مناسب موقع فراہم کر کے حل کیا جانا چاہیے تھا۔(ایجنسیز)
شری ماتا دیوی میڈیکل کالج سے متعلق این ایم سی کا فیصلہ، آئندہ اسمبلی اجلاس میں بحث متوقع