عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس اسٹوڈنٹس یونین نے ہفتے کے روز پریس کلب جموں کے باہر شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی بندش کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ جموں کے عوام کے مفادات کے خلاف ہے۔احتجاج کے دوران طلبہ نے نعرے بازی کی ۔ احتجاجیوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر’’جموں و کشمیر کے لیے انصاف‘‘اور ’’سیاست نہیں، تعلیم‘‘جیسے نعرے درج تھے۔ ان نعروں کے ذریعے مظاہرین نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں کو سیاسی تنازعات کا شکار نہیں بنایا جانا چاہیے۔
مظاہرین نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنگھرش سمیتی پورے جموں خطے کی نمائندگی نہیں کرتی اور وہ سیاسی مفادات کے لیے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد میڈیکل کالج کی بندش کی سخت مخالف ہے اور عوامی مفاد میں اس کے قائم رہنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔مظاہرین نے مزید کہا کہ اس مسئلے کو علاقائی تقسیم کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں نقصان دہ اور غیر منصفانہ ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ الگ جموں بیانیے کو فروغ دینے والے عناصر محض اپنی سیاسی بقا کے لیے ایسا کر رہے ہیں وہ لوگ کسی بھی طور خطے کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ہیں۔
طلبہ نے کہا کہ میڈیکل کالج کی بندش سے نہ صرف مستقبل کے طبی طلبہ متاثر ہوں گے بلکہ خطے کے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔احتجاج پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا، جس میں طلبہ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ تعلیم کو سیاست پر ترجیح دی جائے اور سیاسی دباؤ یا تقسیم پر مبنی ایجنڈوں کی وجہ سے طلبہ کا مستقبل داؤ پر نہ لگایا جائے۔
این سی اسٹوڈنٹس یونین کا جموں میں ایس ایم وی ڈی میڈیکل کالج کی بندش کے خلاف احتجاج