عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف سنیل کمار شرما نے بدھ کے روز عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ہیڈکوارٹر سول سیکرٹریٹ میں نہیں بلکہ میراتھن ٹریکس اور گلمرگ کی اسکی ڈھلوانوں کے درمیان کہیں واقع ہے۔سنیل شرما نے الزام لگایا کہ عمر عبداللہ حکومت کے دور میں بدانتظامی اور بدعنوانی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہا، ’’اگر آپ عمر عبداللہ یا ان کے وزراء کو تلاش کرنا چاہتے ہیں تو سول سیکرٹریٹ مت جائیں، بلکہ انہیں میراتھن ٹریکس اور گلمرگ کی اسکی ڈھلوانوں کے درمیان کہیں تلاش کریں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ عمر عبداللہ کی حکومت صرف اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ میں مصروف ہے جبکہ عام آدمی کے مسائل کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا، ’’عمر عبداللہ حکومت نے لیز ایکسٹینشن بل متعارف کرا کے کشمیر کے امیر طبقے کے مفادات کا تحفظ کیا، جنہیں انتہائی کم قیمت پر زمین فراہم کی گئی۔ دوسری جانب جموں و کشمیر کے عام لوگوں کے مسائل پر آنکھیں بند کر لی گئی ہیں۔ اسپتالوں کا دورہ کریں تو نہ ڈاکٹر موجود ہیں اور نہ ہی مناسب سہولیات۔ پورے یوٹی کی سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہیں اور لوگوں کو 200 یونٹ مفت بجلی دینے کے بجائے بھاری بھرکم بجلی بلوں کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔‘‘
شراب بندی کے مطالبے سے متعلق جاری تنازعہ پر بات کرتے ہوئے قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ اس معاملے پر عمر عبداللہ کا بیان غرور اور تکبر کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’یہ نہ صرف نیشنل کانفرنس کے انتخابی وعدوں سے یوٹرن ہے بلکہ ہمیشہ کی طرح ان کے تکبر کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ان کے ایک رکنِ پارلیمنٹ نے انتخابی مہم کے دوران شراب بندی کی بات کی تھی۔‘‘واضح رہے کہ اتوار کے روز عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ کسی کو شراب پینے پر مجبور نہیں کیا جا رہا اور لوگ اپنی مرضی سے شراب کی دکانوں پر جاتے ہیں۔ بعد ازاں تنقید کے بعد وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان کے بیان کو سیاسی مخالفین نے ’’توڑ مروڑ کر پیش کیا‘‘۔
نیشنل کانفرنس میں ایکناتھ شنڈے جیسے حالات پیدا ہونے سے متعلق سوال پر سنیل شرما نے کہا کہ پارٹی ایک ڈوبتا ہوا جہاز ہے اور ہر قیمت پر غرق ہوگی۔انہوں نے کہا، ’’نیشنل کانفرنس ایک ڈوبتا ہوا جہاز ہے۔ اس کے اراکین بے چینی کے ساتھ اسے چھوڑنا چاہتے ہیں، لیکن ابھی کوئی انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرے گی اور اس کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے۔‘‘راجیہ سبھا انتخابات میں کراس ووٹنگ کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ اس مرحلے پر اس بارے میں بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
نیشنل کانفرنس ڈوبتا ہوا جہاز، ہر قیمت پر غرق ہوگی:قائدِ حزبِ اختلاف