عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/عمر عبداللہ نے اتوار کے روز کہا تھا کہ کسی کو شراب پینے پر مجبور نہیں کیا جا رہا ہے اور لوگ اپنی مرضی سے شراب کی دکانوں پر جاتے ہیں۔ تنقید کے بعد انہوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات کو سیاسی مخالفین کی جانب سے ’مروڑا‘جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں دستیاب شراب صرف ان دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے ہے جن کے ہاں اس کے استعمال کی اجازت ہے۔
فاروق عبداللہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تناؤ کی وجہ سے ایندھن اور گیس کے بحران پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی کفایت شعاری کی اپیل پر انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے بحران کی وجہ سے ملک مشکل صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم ایندھن اور گیس کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں اور ہم تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔‘‘
عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ اقتصادی طور پر کمزور طبقات کے لیے آن لائن تعلیم ایک عملی آپشن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ غریب لوگوں کی آن لائن تعلیم تک رسائی نہیں ہے۔ تعلیم ضروری ہے، لیکن آن لائن تعلیم ہر کسی کے لیے ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے متبادل حل تلاش کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تعلیم، بالخصوص پسماندہ طلبہ کی پڑھائی متاثر نہ ہو۔
تصادم بڑھنے پر سنگین معاشی نتائج کی وارننگ دیتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ اگر یہ بحران ختم نہ ہوا، اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ ختم نہ ہوئی تو صرف خدا ہی جانتا ہے کہ ہمارا کیا ہوگا۔
سیاسی مخالفین کی جانب سے میرےبیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے : عمر عبداللہ