عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/حکمران اتحاد کی حمایت کرنے والے ایک ایم ایل اے نے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ ترقیاتی فنڈز اور سڑک منصوبوں میں اپنے حلقہ انتخاب کو کھلے عام ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ دیگر حلقوں خصوصاً اتحادی ایم ایل ایز کے علاقوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے۔راجوری کے تھنہ منڈی اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرنے والے ایم ایل اے مظفر اقبال خان نے کہا کہ فنڈز کی تقسیم میں بڑے پیمانے پر تفاوت پایا جا رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ نابارڈ اسکیم کے تحت نوشہرہ اسمبلی حلقہ کے لیے 30 کروڑ روپے کے منصوبے منظور کیے گئے ہیں، جبکہ ضلع کے دیگر حلقوں کو اسی اسکیم کے تحت محض 4 سے 5 کروڑ روپے ہی دیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا، امتیازی سلوک کی انتہا یہ ہے کہ ہمارے حلقوں کے لیے ایک بھی پل منصوبہ منظور نہیں کیا گیا، جبکہ تمام پلوں کے منصوبے نائب وزیر اعلیٰ کے حلقہ انتخاب کو دیے گئے ہیں۔
مظفر خان نے مزید الزام لگایا کہ شہروں اور قصبوں کی میکڈمائزیشن منصوبہ بندی کے تحت نائب وزیر اعلیٰ کے حلقے میں کاموں کے ٹینڈر پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ دیگر حلقوں میں اسی اسکیم کے تحت منصوبے ابھی تک منظوری کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا، ہمیں کہا گیا ہے کہ ہر حلقے میں صرف 20 کلومیٹر سڑکوں کی میکڈمائزیشن کا منصوبہ پیش کریں۔ ہم صرف 20 کلومیٹر کے ساتھ کیا کریں؟ میرے حلقے میں ہر سڑک کی لمبائی ہی 20 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ایم ایل اے نے حکمران وزراء کے درمیان ’لے دے‘ کے ایک مبینہ نظام کا بھی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وزراء ایک دوسرے کے حلقوں کو فنڈز دے رہے ہیں جبکہ باقی ایم ایل ایز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، وزراء صرف اپنے اپنے حلقوں پر توجہ دے رہے ہیں اور باقی اسمبلی حلقوں کی انہیں کوئی فکر نہیں ہے۔
رُکن اسمبلی تھنہ منڈی مظفر اقبال خان کا نائب وزیر اعلیٰ پر فنڈز میں جانبداری کا الزام