عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے سرینگر میں ایک سپر مارکیٹ چین کی افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی جامع مسجد میں گزشتہ جمعہ کے خطاب میں ظاہر کیے گئے اپنے خدشات کا اعادہ کیا، جن میں منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت اور شراب پر پابندی کی ضرورت شامل تھی۔
میرواعظ نے کہا کہ منشیات اور شراب دونوں ہی معاشرے کے لیے انتہائی تباہ کن ہیں اور حکومت ایک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دوسرے کے بارے میں خاموش نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ جموں و کشمیر ایک مسلم اکثریتی خطہ ہے جہاں شراب نوشی سماجی اور مذہبی اعتبار سے ناپسندیدہ سمجھی جاتی ہے، تاہم ملک کی کئی غیر مسلم اکثریتی ریاستوں نے بھی اس کے سماجی نقصانات کے پیش نظر شراب پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو میں نئی حکومت کے ابتدائی اقدامات میں 700 شراب کی دکانوں کو بند کرنا شامل ہے۔
شراب پر مکمل پابندی کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ منشیات فروش نیٹ ورکس کے خلاف جاری مہم سے مطلوبہ نتائج اُس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتے جب تک شراب کے خلاف بھی کارروائی نہ کی جائے، کیونکہ یہ بھی خاندانوں اور معاشرے کو تباہ کر رہی ہے۔
میرواعظ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ منشیات مخالف مہم علاقائی جانبداری پر مبنی نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی کسی ایک فرد کے جرم کی پاداش میں ا±س کے خاندان کے دیگر افراد کو گھروں کی مسماری یا دیگر کارروائیوں کے ذریعے ہراساں کیا جانا چاہیے۔
شراب پر روک کے بغیر انسدادِ منشیات مہم ادھوری رہے گی: میرواعظ