عظمیٰ ویب ڈیسک
پونچھ/قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے جمعرات کے روز جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے۔ یہ کارروائیاں 2024 میں سامنے آئے اُس ملی ٹینسی سازش کیس کی تفتیش کا حصہ ہیں، جس میں اسلحہ اور ممنوعہ مواد کی برآمدگی کا معاملہ شامل تھا۔
ذرائع کے مطابق چھاپے محلہ خورینار اور ہری–سرنکوٹ علاقوں میں اس کیس سے جڑے شواہد کی تلاش کے لیے انجام دیے گئے۔ یہ کیس اُس وقت درج کیا گیا تھا جب پونچھ میں دو افراد سے پستول اور دو گرینیڈ برآمد کیے گئے تھے۔ این آئی اے نے گزشتہ برس اپریل میں اس کیس میں عبدالعزیز، منور حسین اور ان کے پاکستانی ہینڈلر نذیر حسین کے خلاف چارج شیٹ دائر کی تھی۔ تاہم ایجنسی کو شبہ ہے کہ اس نیٹ ورک میں مزید افراد ملوث ہو سکتے ہیں، اسی وجہ سے نئی چھاپہ مار کارروائیاں شروع کی گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ چھاپوں کے دوران اہم دستاویزات، الیکٹرانک ڈیوائسز اور ممکنہ رابطوں سے متعلق مواد کی تلاش جاری ہے۔ این آئی اے اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا یہ گروہ کسی بڑے منصوبے کا حصہ تھا یا سرحد پار سے ہدایات کے تحت علاقے میں اسلحہ اور بارودی مواد پھیلانے کی کوشش کر رہا تھا۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمان کو پاکستان میں موجود ان کے ہینڈلر کی جانب سے ہتھیار اور رقم فراہم کی جاتی تھی، جس کا مقصد پونچھ اور گردونواح میں سرگرم ملی ٹینسی نیٹ ورکس کو تقویت دینا تھا۔ مزید تفصیلات تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔
ملی ٹینسی سازش کیس: پونچھ میں این آئی اے کے چھاپے