عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے پیر کے روز یو اے پی اے کے تحت دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو “غیر قانونی ادارہ” قرار دیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پسماندہ طبقات کے ساتھ سراسر ناانصافی قرار دیا ہے۔
جموں و کشمیر انتظامیہ نے 24 اپریل کو جنوبی کشمیر میں واقع سراج العلوم کو یو اے پی اے کے تحت ایک غیر قانونی تنظیم قرار دیتے ہوئے اس کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ یہ اقدام جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے کالعدم جماعتِ اسلامی اور فلاحِ عام ٹرسٹ سے مبینہ طور پر وابستہ 58 اسکولوں کو اپنے کنٹرول میں لینے کے چند دن بعد اٹھایا گیا ہے۔ سراج العلوم جموں و کشمیر میں غیر قانونی قرار دیا جانے والا پہلا مدرسہ ہے۔
محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر حکومت پر الزام لگایا کہ وہ خطے کی شناخت اور وقار پر ہونے والے حملوں کے سامنے خاموش تماشائی اور بزدل کا کردار ادا کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ ادارے کو غیر قانونی قرار دینا معاشرے کے غریب اور محروم طبقات کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مدرسہ طویل عرصے سے ان طلبہ کے لیے معیاری تعلیم کا مرکز رہا ہے جو مہنگے اسکولوں کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور اس ادارے نے نامور ڈاکٹرز اور پیشہ ور افراد تیار کیے ہیں جنہوں نے ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک دشمن سرگرمی کے کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر ان فلاحی اداروں پر پابندی لگانا تعصب اور بدنیتی کی عکاسی کرتا ہے۔
حریت کانفرنس کے چیئرمین اور کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے بھی اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے خطے میں جبر اور عوام کو بے اختیار کرنے کی پالیسی کا الزام لگایا۔
ایکس پر اپنی پوسٹ میں میرواعظ نے کہا کہ کئی ایجنسیاں کسی نہ کسی بہانے شہریوں کو ہراساں کر رہی ہیں، ان کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں اور نوجوانوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے انہیں یونین ٹیریٹری سے باہر کی جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک موجودہ رکنِ پارلیمنٹ کو اپنے شدید بیمار والد سے ملنے کے لیے ضمانت دینے سے انکار کر دیا گیا اور اب محروم طبقے کی خدمت کرنے اور اسکالرز، ڈاکٹرز، انجینئرز اور پیشہ ور افراد پیدا کرنے کی شاندار وراثت رکھنے والے ایک ممتاز تعلیمی ادارے کو یو اے پی اے کے تحت غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔
میرواعظ نے سوال کیا کہ ایسی پالیسیاں کب تک جاری رہیں گی؟ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر کی قیادت والی انتظامیہ اور منتخب حکومت دونوں سے اپنا موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سوال پوچھا کہ کیا ایل جی انتظامیہ کشمیر کے عوام کو بتائے گی کہ جبر اور بے اختیاری کی یہ پالیسی کب تک جاری رہے گی اور منتخب حکومت کب تک اسے برداشت کرتی رہے گی؟
محبوبہ مفتی اور میرواعظ کی جانب سے سراج العلوم کو ‘غیر قانونی ادارہ’ قرار دینے کی مذمت