عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کے روز نوجوان کھلاڑیوں سے اپیل کی کہ وہ نشہ مکت بھارت ابھیان کے برانڈ ایمبیسیڈر بنیں اور کھیلوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے منشیات کے خلاف بیداری پیدا کریں۔
لیفٹیننٹ گورنر کشمیر یونیورسٹی کے اسپورٹس گراؤنڈ میں آل انڈیا انٹر یونیورسٹی ووشو چیمپئن شپ برائے مرد و خواتین کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، جہاں ملک بھر کی 150 سے زائد یونیورسٹیوں کے ایک ہزار سے زیادہ کھلاڑی شریک ہیں۔
انہوں نے جموں و کشمیر میں جاری 23 روزہ انسداد منشیات مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی شمولیت اس تحریک کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کھلاڑیوں سے کہا کہ وہ منشیات کے خلاف مختصر آگاہی ویڈیوز تیار کریں اور انہیں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شیئر کریں تاکہ دوسرے نوجوان بھی متاثر ہوں۔
انہوں نے کہا، میں ہر طالب علم کھلاڑی سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ 20 سے 60 سیکنڈ کی ایک مختصر ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کرے۔ آپ کا پیغام بہت سے نوجوانوں کو صحیح راستہ دکھا سکتا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کھلاڑیوں کو سماج کے رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ذمہ داری صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں بلکہ نئی نسل کی رہنمائی بھی ان پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا، آپ بھارت کی نئی نسل کے لیے مثال ہیں۔ آپ کی آواز نوجوانوں کو منشیات سے دور اور کھیل و ضبط کی طرف راغب کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھیلوں کے مقابلے صرف تمغے جیتنے کے لیے نہیں بلکہ نظم و ضبط، کردار سازی اور صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لیے بھی اہم پلیٹ فارم ہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ منشیات کے خلاف جنگ اجتماعی کوششوں اور نوجوانوں کی فعال شمولیت سے ہی کامیاب ہو سکتی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو منشیات سے پاک مستقبل فراہم کیا جا سکے۔
لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کھلاڑیوں کو نشہ مکت بھارت مہم کا برانڈ ایمبیسیڈر قرار دیا