عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ نئی دہلی، امرتسر اور ہریانہ میں واقع اس کی قیمتی جائیدادیں اس کے براہِ راست قبضے میں نہیں بلکہ مختلف سرکاری و نجی اداروں کے زیرِ قبضہ ہیں۔ اس انکشاف کے بعد یہ سوال اٹھ رہے ہیں کہ بھاری مالی قدر کی حامل یہ اثاثے کس طرح ریاستی کنٹرول سے باہر ہوئے۔
پیپلز کانفرنس کے رکنِ اسمبلی سجاد غنی لون کی کٹ موشن پر تحریری جواب دیتے ہوئے محکمہ مہمان نوازی و پروٹوکول کے انچارج وزیر نے بتایا کہ دہلی میں جموں و کشمیر کی 96 کنال اراضی اس وقت وزارتِ دفاع کے انتظامی کنٹرول میں ملٹری انجینئرنگ سروس کے قبضے میں ہے۔
تحریری جواب کے مطابق، جموں و کشمیر حکومت کی ملکیت ’’کشمیر ہاؤس‘‘کے نام سے معروف جائیداد راجاجی مارگ، نئی دہلی میں 114 کنال اور 11.2 مرلہ اراضی پر مشتمل ہے۔ اس میں سے 96 کنال اراضی ملٹری انجینئرنگ ونگ (انجینئر اِن چیف) وزارتِ دفاع کے زیرِ قبضہ ہے اور اس سلسلے میں اسٹیٹس ڈیپارٹمنٹ اور وزارتِ دفاع کے ساتھ مسلسل معاملہ اٹھایا جا رہا ہے۔
وزیر نے بتایا کہ ایک کنال اور 11.2 مرلہ اراضی جو غیر مجاز قبضے میں تھی، 5 جون 2023 کو کامیابی کے ساتھ واگزار کرائی گئی۔ اس طرح اس وقت مجموعی طور پر 18 کنال اراضی جموں و کشمیر حکومت کے قبضے میں ہے جس پر عملے کے کوارٹرز قائم ہیں۔
وزیر نے مزید انکشاف کیا کہ امرتسر کے دمی گنج (تپائی روڈ) علاقے میں تقریباً 32 کنال اور 9 مرلہ اراضی بھی غیر مجاز قبضے کا شکار رہی۔ مسلسل قانونی کارروائی اور ضلع عدالت امرتسر کے احکامات کے بعد حکومت نے رمندر سنگھ بلوریا سے تقریباً 14 کنال اور 11 مرلہ جبکہ بل بیر شرما سے 9 کنال اور 13 مرلہ اراضی واگزار کرالی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بقیہ تقریباً 8 کنال اور 5 مرلہ اراضی تاحال زیرِ قبضہ ہے، جس میں سے دو کنال اور 15 مرلہ کلدیپ جبکہ تقریباً پانچ کنال اور 10 مرلہ رمندر پال سنگھ کے قبضے میں ہیں۔ یہ دونوں معاملات متعلقہ سول عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں اور حتمی فیصلے کے بعد محکمہ مال اور مقامی انتظامیہ کی مدد سے اراضی واگزار کرانے کی توقع ہے۔
ہریانہ کے ضلع سرسا کے منگلا علاقے میں واقع تقریباً 1251 کنال اور 4 مرلہ اراضی کے حوالے سے بھی وزیر نے بتایا کہ یہ زمین 1960 کی دہائی کے اواخر میں بجوا برادران کو لیز پر دی گئی تھی۔ لیز کی شرائط، خصوصاً کرایہ ادا نہ کرنے کی خلاف ورزی کے باعث حکومت نے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں قانونی چارہ جوئی شروع کی ہے تاکہ ملکیتی حقوق کا تحفظ اور اراضی کی بازیابی یقینی بنائی جا سکے۔ معاملہ اس وقت حتمی دلائل کے مرحلے میں ہے۔
دہلی، امرتسر اور ہریانہ میں جموں و کشمیر کی جائیدادیں غیر مجاز قبضے میں، بازیابی کی کوششیں جاری