عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے ضلع جموں میں کسٹوڈین زمین سے متعلق ایک اور بڑے گھوٹالے کا پردہ فاش کرتے ہوئے مزید تین ایف آئی آر درج کر لی ہیں۔جاری ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ اے سی بی نے ایک بار پھر بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں زمین کے ایک بڑے اسکینڈل کو بے نقاب کیا ہے، جس میں اسروان، مشری والا، بھلوال اور آر ایس پورہ کے علاقوں میں واقع کسٹوڈین زمین کو لینڈ مافیا نے فارم الف ہولڈرز اور کسٹوڈین و ریونیو محکموں کے افسران و اہلکاروں کی ملی بھگت سے ہڑپ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ان علاقوں میں ہزاروں کنال کسٹوڈین زمین کو جعلسازی کے ذریعے قبضہ مافیا نے ریونیو حکام کی ملی بھگت سے اپنے نام کروا کر فروخت کیا ہے۔ ان اطلاعات کی بنیاد پر اے سی بی نے تحقیقات شروع کیں، جن سے انکشاف ہوا کہ ایک ہزار کنال سے زائد زمین جعلی احکامات کی بنیاد پر ان بے گھر افراد کے نام الاٹ دکھائی گئی جو اس کے اہل نہیں تھے۔بیان کے مطابق، اب تک اس معاملے میں 24 ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔ مزید جانچ کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ پی او کے مہاجرین کو پہلے ہی زمین الاٹ کی جا چکی تھی، لیکن اس کے باوجود ان کے رشتہ داروں نے، جو اس کے اہل نہیں تھے، ریونیو افسران و اہلکاروں کی ملی بھگت سے آر ایس پورہ اور دومانہ علاقوں میں اضافی زمین اپنے نام منتقل کروا لی۔
ترجمان نے کہا کہ تحقیقات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ پی آر او کے دفتر سے اس قسم کے کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے تھے۔ بعد ازاں ان افراد نے یہ زمین خود یا اپنے ایجنٹوں کے ذریعے فروخت کر دی، جس سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی تحقیقات میں مجرمانہ عناصر، لینڈ مافیا، فارم الف ہولڈرز اور محکمہ مال کے افسران کے درمیان گٹھ جوڑ ثابت ہونے کے بعد تقریباً 20 کنال 9 مرلہ کسٹوڈین زمین کی غیر قانونی منتقلی کے سلسلے میں مزید 3 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔ یہ مقدمات اے سی بی سنٹرل جموں و کشمیر میں بدعنوانی ایکٹ، مجرمانہ سازش، دھوکہ دہی، جعلسازی اور فراڈ کی دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں۔ملزمان میں وریام سنگھ (سابق پٹواری)، بالک رام (سابق نائب تحصیلدار)، موہن سنگھ، پریم سنگھ (سابق پٹواری)، بھارت بھوشن مہرا، راہول کائی (سابق پٹواری)، ثاقب سلیم (سابق تحصیلدار)، ست پال اور دیگر شامل ہیں۔
جموں میں کسٹوڈین زمین سے متعلق بڑے گھوٹالےکا پردہ فاش ، مزید 3ایف آئی آر درج