عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر//وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ جموں و کشمیر کے یونین ٹیریٹری بننے کے بعد اس کی مالی انحصاریت مرکز پر مزید بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے یہ بیان مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن کی اس رائے کے جواب میں دیا جس میں ریاستوں کو مالی نظم و ضبط قائم رکھنے اور قرض-جی ڈی پی تناسب کم کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ عمر عبداللہ، جو جموں و کشمیر کے وزیرِ خزانہ بھی ہیں، نے کہا کہ ریاست مالی طور پر خود کفیل نہیں ہے اور زیادہ تر وسائل کے لیے مرکز پر انحصار کرتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ریاستی دور میں مرکزی ٹیکسوں سے حصہ ملتا تھا جو اب نہیں ملتا، اس لیے بجٹ کا بڑا بوجھ براہِ راست مرکز کو منتقل کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے مالی نظم و ضبط میں کوتاہی نہ ہونے دینے کی پوری کوشش کی ہے۔ سیاحت کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت ایڈونچر ٹورزم کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے لیکن عوام کی حفاظت اور سلامتی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ حال ہی میں اتراکھنڈ میں ایک شخص بغیر رسی باندھے بنجی جمپنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوا، اور ایسی صورتحال جموں و کشمیر میں نہیں ہونے دی جائے گی۔
توانائی بحران پر انہوں نے کہا کہ بارش اور برفباری میں کمی کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہوئی ہے، جس سے بجلی پیداوار متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بجلی ذمہ داری سے استعمال کریں، خالی کمروں کو گرم نہ کریں اور رات بھر گرم ہیٹروغیرہ نہ چلائیں۔ سیاحت کے حوالے سے عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر کو ایڈونچر ٹورزم کا مرکز بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکیئنگ اہم کشش ہے جبکہ ٹریکنگ، کوہ پیمائی، رافٹنگ اور پیراگلائیڈنگ کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے، اور ان سرگرمیوں کو مرحلہ وار اور محفوظ طریقے سے متعارف کرایا جائے گا۔
یونین ٹیریٹری بننے کے بعد جموں و کشمیر کی مالی انحصاریت میں اضافہ: عمر عبداللہ