عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نگروٹہ کے پنج گرائیں علاقے میں سوامی پرونوانند ودیا مندر کی نئی اسکول عمارت کا افتتاح کیا۔ یہ اسکول بھارت سیو آشرام سنگھا کے زیرِ انتظام چلایا جا رہا ہے، جو ایک معروف سماجی، ثقافتی اور فلاحی ادارہ ہے۔یہ ادارہ 2014 سے ’ہر گھر شکشا‘ مہم کے تحت یہاں پری پرائمری سے آٹھویں جماعت تک تعلیم فراہم کر رہا ہے، جہاں نصف سے زیادہ طلبہ کا تعلق غریب خاندانوں سے ہے، اور اس نے بے شمار زندگیاں روشن کی ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ نئی ہائر سیکنڈری عمارت اور ہنر مندی کے بنیادی ڈھانچے سے پسماندہ طلبہ کو معیاری تعلیم حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ عمارت کی تمام منزلیں مکمل ہونے کے بعد یہ ادارہ 1500 سے زائد طلبہ کو سہولت فراہم کرے گا اور ہزاروں زندگیاں بدلنے کا ذریعہ بنے گا۔ مستقبل میں 100 طلبہ کے لیے رہائشی سہولیات فراہم کیے جانے سے مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا اور پسماندہ علاقوں کی ترقی ممکن ہوگی۔انہوں نے طلبہ اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ قوم کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں اور تعلیمی نظام کو عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالیں تاکہ بھارت کو دنیا کی صفِ اول کی علم پر مبنی معیشت بنایا جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ طلبہ میں ثقافتی شعور کو فروغ دینا ضروری ہے کیونکہ ’’تنوع میں اتحاد‘‘ عالمی معاشرے کی پہچان ہے۔ انہوں نے بہتر ابلاغی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ نئی نسل واضح انداز میں اپنی بات پیش کر سکے، جمہوری اقدار کو مضبوط کرے اور خوشحال جموں و کشمیر کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دے۔
انہوں نے کہا کہ فن، دستکاری، موسیقی یا کاروبار میں مہارت رکھنے والے ہر طالب علم کو یکساں احترام اور مواقع ملنے چاہئیں۔ صرف نمبرات اور محدود تعلیمی کامیابیوں پر مبنی تعلیم کو مستقبل کے لیے ناکافی قرار دیتے ہوئے انہوں نے تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ، اخلاقی فیصلے، اشتراک اور مسلسل سیکھنے کی اہمیت اجاگر کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور اب پیشہ ورانہ زندگی میں مسلسل سیکھنے، ہنر حاصل کرنے اور خود کو اپڈیٹ رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت اور خودکار نظام مختلف شعبوں میں تیزی سے تبدیلی لا رہے ہیں۔
انہوں نے قومی تعلیمی پالیسی کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی قومی ضروریات کو پورا کرنے، سماجی صلاحیتوں کو بڑھانے اور معاشی ترقی کو تیز کرنے کے لیے ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے دیہی و شہری اور علاقائی و سماجی فرق کو کم کیا جا سکتا ہے اور باصلاحیت طلبہ کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی تعلیم بیرونی دنیا کے لیے علم و ہنر کے ساتھ ساتھ اندرونی شعور اور جذباتی مضبوطی بھی فراہم کرتی ہے، اور یہی جامع نقطہ نظر ہر تعلیمی ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔تقریب میں بھارت سیواشرم سنگھاکے جنرل سیکریٹری سوامی بسواتمانند جی مہاراج، جوائنٹ سیکریٹری سوامی امبریشانند جی مہاراج، اراکین پارلیمنٹ، قانون ساز اسمبلی کے اراکین، سابق نائب وزیر اعلیٰ اور دیگر معزز شخصیات نے بھی شرکت کی۔
معیاری تعلیم اور ہنر مندی سے جموں و کشمیر کا مستقبل روشن ہوگا: منوج سنہا