عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/ فوجی سربراہ جنرل اوپیندر دیویدی نے پاکستان کو ایک بار پھر سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے طے کرنا ہوگا کہ وہ عالمی نقشہ پر اپنی پہچان برقرار رکھنا چاہتا ہے یا دہشت گردوں کوپناہ دینے اور ہندوستان کے خلاف عداوت پرمبنی حرکتیں جاری رکھ کر خود کو تاریخ سے مٹانے کا خطرہ مول لینا چاہتا ہے۔
ہفتہ کو یہاں مانک شا سینٹر میں منعقدہ ایک مکالماتی سیشن میں یہ پوچھے جانے پر کہ اگر آپریشن سندور جیسی صورتحال دوبارہ پیدا ہوتی ہے تو ہندوستانی فوج کیسا جواب دے گی، تو جنرل دیویدی نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا، “اگر آپ نے پہلے میری باتیں سنی ہیں، تو میں نے کہا ہے کہ پاکستان اگر دہشت گردوں کو پناہ دیتا رہا اور ہندوستان کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھیں، تو اسے طے کرنا ہوگا کہ وہ جغرافیائی نقشے کا حصہ رہنا چاہتا ہے یا تاریخ کا۔”
آرمی چیف کے اس تبصرے کو ہندوستان کی اعلیٰ فوجی قیادت کی جانب سے ایک سخت انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو یہ اشارہ دیتا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کے تعلق سے ہندوستان کا صبر محدود ہے اور مستقبل میں کسی بھی اشتعال انگیز کارروائی کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
جنرل دیویدی نے گزشتہ سال نومبر میں ‘چانکیہ ڈیفنس ڈائیلاگ’ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا، “آپریشن سندور محض ایک ٹریلر تھا، جو 88 گھنٹے میں ختم ہوا۔ ہم مستقبل میں کسی بھی صورتحال کے لیے تیار ہیں۔ اگر پاکستان موقع دے گا، تو ہم اسے یہ سکھائیں گے کہ پڑوسی ملک کے ساتھ ذمہ داری سے کیسا برتاؤ کرنا چاہیے۔”
آپریشن سندور کے وقت ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) رہے لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے اس آپریشن کی پہلی سالگرہ پر کہا تھا کہ ہندوستان کی فوجی کارروائی کی وجہ سے پاکستان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا جس کے بعد اسے ہندوستان کے سامنے جنگ بندی کی التجا کرنی پڑی۔
فوجی سربراہ کا پاکستان کو واضح پیغام ، ملی ٹینسی کی حمایت کرے گا تو مٹا دیا جائے گا نقشہ سے