عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/حکمراں نیشنل کانفرنس کو آج حلقہ انتخاب چھانہ پورہ کے نٹی پورہ علاقے میں اس وقت بڑا دھچکہ لگا، جب پارٹی کے درجنوں سرکردہ رہنماؤں اور کارکنوں نے اجتماعی طور پر پارٹی سے استعفیٰ دے کر اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔
اس موقع پر اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے نئے اراکین کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ اپنی پارٹی اپنے اپنے علاقوں میں عوامی خدمت کے لیے ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی شمولیت سے نٹی پورہ وارڈ میں پارٹی کیڈر کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔
نئے اراکین کی شمولیت کارکنان کے ایک اہم اجلاس کے دوران عمل میں آئی۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد مقامی عوامی مسائل اور شکایات کا جائزہ لینا اور پارٹی کے بعض اہم امور پر تبادلۂ خیال کرنا تھا۔ اجلاس اور جوائننگ پروگرام کا انعقاد پارٹی کے نٹی پورہ وارڈ صدر ارجمند مخدومی نے کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں پر زور دیا کہ وہ سرینگر شہر بھر میں پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنی سیاسی اور عوامی رابطہ مہم کو مزید تیز کریں۔
انہوں نے کہا، ’’حکمراں جماعت کی مایوس کن کارکردگی اور اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکامی کے باعث عوام سخت مایوس ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کے مسائل اور شکایات کو اجاگر کریں تاکہ ان کا مؤثر ازالہ ممکن ہو سکے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’عوام اب اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران حکمراں جماعت نے جھوٹے وعدوں کے ذریعے انہیں گمراہ کیا۔ نیشنل کانفرنس نے ووٹ حاصل کرنے کے لیے عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے تھے۔ اقتدار میں آتے ہی ایک لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے، ڈیلی ویجروں کو مستقل کرنے، 200 یونٹ مفت بجلی، ہر گھر کو مفت ایل پی جی سلنڈر اور راشن کوٹے میں اضافہ جیسے وعدے کیے گئے تھے، لیکن یہ تمام وعدے جھوٹے اور گمراہ کن ثابت ہوئے۔‘‘
عوام کو درپیش اہم مسائل کا ذکر کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ منتخب حکومت میں نہ تو ان مسائل کو حل کرنے کا ارادہ ہے اور نہ ہی صلاحیت۔
انہوں نے کہا۔ ’’خواہ ریاستی درجے کی بحالی کا معاملہ ہو، روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہو، نظربندوں کی رہائی کا مسئلہ ہو، ملازمت کے لیے درکار پاسپورٹ کے اجرا اور تصدیقی عمل کو آسان بنانا ہو یا دیگر اہم معاملات، ان تمام مسائل کا حل صرف مرکزی حکومت کے پاس ہے۔‘‘
اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے انہوں نے مرکز سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا آغاز کرے تاکہ ان کے مسائل اور خدشات کا ازالہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا، ’’وزیر اعظم اور وزیر داخلہ خود یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ مرکزی حکومت جموں و کشمیر کے نوجوانوں سے بات چیت کرے گی، ان کی شکایات سنے گی اور ان کا ازالہ کرے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس وعدے کو پورا کیا جائے۔ مرکز اور جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان ایک بامعنی اور نتیجہ خیز مکالمہ ہونا چاہیے۔‘‘
دریں اثنا، اپنی پارٹی میں شامل ہونے والے نمایاں افراد میں حلقہ صدر (این سی) محمد امین بٹ، این سی کے سینئر کارکن اسداللہ، سلیم جہانگیر، محمد اسلم ڈار، ڈاکٹر ظہور احمد، ہلال احمد حقانی، ظہور احمد بٹ، ادریس احمد، امتیاز احمد ڈار، ظہور احمد، شیخ عمر، بلال احمد ڈار، جان محمد ڈار، ڈاکٹر شاہد، زید جاوید، ڈاکٹر کامران، حسیب اسلم، عادل مشتاق حافظ، محمد یونس ڈار، ارسلان سجاد، لیاقت علی، اشتیاق احمد، جان محمد، مدثر احمد، مبشر جہانگیر اور دیگر اشخاص شامل ہیں۔
اس موقع پر سید محمد الطاف بخاری کے علاوہ پارٹی کے کو سرکردہ لیڈران موجود تھے، اُن میں ضلع سرینگر کے نائب صدر اعجاز احمد راتھر، بڈشاہ نگر وارڈ کے صدر عمران لون، ضلع سرینگر کمیٹی کی رکن افروزہ خان اور دیگر بھی موجود تھے۔