عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن اور پارلیمانی نشستوں کی توسیع کے لیے آئینی ترمیمی بل پر بحث کی خاطر کل سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے سہ روزہ اجلاس سے قبل، بدھ کو یہاں اپوزیشن جماعتوں کے ’انڈیا‘اتحاد کے رہنماؤں کی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں پارلیمنٹ میں حکومت کو گھیرنے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے کی رہائش گاہ 10 راجاجی مارگ پر منعقدہ اس میٹنگ میں ’انڈیا‘اتحاد کی حلیف جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی۔ میٹنگ میں اپوزیشن لیڈروں نے خواتین کے ریزرویشن بل اور پارلیمانی نشستوں کی توسیع کے حوالے سے جامع مشاورت کی۔
میٹنگ کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے بتایا، “کل سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کے لیے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی رہائش گاہ پر اپوزیشن کے سینئر رہنماؤں نے شرکت کی۔ حکومت کا حد بندی (ڈی لیمیٹیشن) کا قدم خطرناک ہے اور ملک کے جمہوری ڈھانچے، خاص طور پر وفاقی ڈھانچے پر اس کے اثرات کے حوالے سے شدید خدشات ہیں جو ریاستوں کو مرکز میں مناسب حصہ دیتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “ہم نے کل سے شروع ہونے والے اجلاس کے لیے ایک مشترکہ اپوزیشن حکمت عملی تیار کرنے کی خاطر یہ میٹنگ کی۔” اس میٹنگ میں مسٹر کھرگے کے علاوہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے شرپارلیمنٹ کے سہ روزہ اجلاس سے قبل ’انڈیااتحاد ‘کے رہنماؤں کی اہم میٹنگد پوار، سپریہ سولے، شیو سینا (ادھو گروپ) کے سنجے راوت، ڈی ایم کے کے ٹی آر بالو، آر ایس پی کے این کے پریم چندرن، آر جے ڈی کے تیجسوی یادو اور کپل سبل سمیت کئی اہم رہنما موجود تھے۔
پارلیمنٹ کے سہ روزہ اجلاس سے قبل ’انڈیااتحاد ‘کے رہنماؤں کی اہم میٹنگ