عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/میرواعظِ کشمیرمولوی محمد عمر فاروق نے ہندوستان کے مختلف شہروں میں کشمیری شال فروشوں پر ہونے والے حملوں کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ رپورٹس نہایت افسوسناک اور تشویشناک ہیں، اور یہ صورتحال مسلسل بڑھتی ہوئی غیر یقینی کی علامت ہے۔میرواعظ نے کہا کہ حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود کشمیری تاجروں اور مزدوروں کو ہراساں کیے جانے کا سلسلہ ختم نہیں ہو رہا، جس کے نتیجے میں ان میں شدید عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’حیرت اس بات پر ہے کہ نہ اس تشدد پر کوئی روک لگ رہی ہے اور نہ ہی ایسے حملوں میں ملوث افراد کو سزا دی جا رہی ہے، جس سے معاملات مزید خراب ہو رہے ہیں۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ کشمیری شال فروش اور مزدور بھارت کے مختلف شہروں میں روزگار کی تلاش میں جاتے ہیں اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومتِ وقت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔میرواعظ نے کہا کہ یہ مسئلہ محض قانون و امن کا نہیں بلکہ انسانی وقار، شہری آزادیوں اور بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، جس پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے کو فوراً بند کیا جائے اور ایسے واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کشمیری شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔
کشمیری شال فروشوں کی ہراسانی ناقابل قبول، موثر کارروائی ناگزیر: میرواعظ عمر فاروق