عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے جمعہ کے روز کہا کہ منشیات کی لت جیسے سنگین مسئلے پر قابو پانے کے لیے اجتماعی سماجی کوششیں ناگزیر ہیں ،صرف حکومت اس بڑھتے ہوئے ناسور کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہامنشیات کی لت نے ہمارے معاشرے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جب تک والدین اور عوام حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے، اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔ صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے عوامی شمولیت سب سے اہم عنصر ہے اور صرف خاندانوں اور کمیونٹی کی مشترکہ کوششوں سے ہی منشیات کے مضر اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہااگر معاشرہ آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرے تو منشیات کی وجہ سے ہونے والی تکالیف پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
سیاسی پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ نیشنل کانفرنس نے کشمیر میں بی جے پی کے اثر و رسوخ کو مؤثر طریقے سے محدود کیا ہے، جبکہ دیگر ریاستوں کے رجحانات کا بھی حوالہ دیا۔انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کا امکان ہے، جبکہ کیرالہ میں کانگریس آگے دکھائی دے رہی ہے۔ تمل ناڈو میں انہوں نے کہا کہ کانگریس اور ایم کے اسٹالن کی جماعت کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔فاروق عبداللہ نے ان ممکنہ نتائج کو’’اللہ کے فضل‘‘سے تعبیر کیا۔
عالمی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں امن کی فوری ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ طویل تنازعہ کے عالمی سطح پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہااگر مشرق وسطیٰ میں امن بحال نہ ہوا تو اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے نہایت خطرناک ہوں گے۔ تمام ممالک اور عالمی رہنماؤں کو فوری طور پر تنازعہ ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ امریکہ کی قیادت سمیت چین اور روس جیسے ممالک کشیدگی کم کرنے اور جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مثبت کردار ادا کریں گے۔
منشیات کے ناسور کا خاتمہ صرف حکومت نہیں کر سکتی، عوامی تعاون ناگزیر: فاروق عبداللہ