عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو) کرائم برانچ جموں و کشمیر نے جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے ایک سابق انچارج سپرنٹنڈنگ انجینئر کے خلاف سرکاری ریکارڈ میں مبینہ جعلسازی اور ثبوت مٹانے کے الزام میں چارج شیٹ دائر کی ہے۔
کرائم برانچ کے ترجمان نے جاری بیان میں کہا کہ ای او ڈبلیو نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر کی عدالت میں ایف آئی آر نمبر 09/2015 کے تحت تعزیراتِ ہند کی دفعات 420، 467، 468، 471 اور 201 آر پی سی کے تحت اُس وقت کے انچارج سپرنٹنڈنگ انجینئر، جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں، کے خلاف چارج شیٹ پیش کی ہے۔
بیان کے مطابق تحقیقات اُس وقت شروع کی گئیں جب پولیس اسٹیشن کرائم برانچ کشمیر کو ایک تحریری شکایت موصول ہوئی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ مذکورہ افسر نے اپنی تاریخِ پیدائش سرکاری سروس ریکارڈ میں تبدیل کی ہے۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے مبینہ طور پر اپنی تاریخِ پیدائش 28-10-1955 سے تبدیل کرکے 28-10-1958 درج کروائی تاکہ ملازمت میں غیر قانونی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ ترجمان کے مطابق اس جعلسازی کی تصدیق ایف ایس ایل سرینگر اور جموں و کشمیر بورڈ آف اسکول ایجوکیشن (BOSE) کی رپورٹوں سے ہوئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ملزم نے ثبوت چھپانے کیلئے اپنی اصل سروس بک بھی تلف کر دی، جس کے بعد اس کے خلاف دفعہ 201 آر پی سی بھی شامل کی گئی۔
ترجمان نے بتایا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد الزامات کو ثابت پایا گیا اور عدالت میں عدالتی کارروائی کیلئے چارج شیٹ پیش کر دی گئی۔
کرائم برانچ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اقتصادی دھوکہ دہی کرنے والوں سے ہوشیار رہیں اور اس طرح کے معاملات کی اطلاع فوری طور پر ایس ایس پی ای او ڈبلیو کشمیر، کرائم برانچ جموں و کشمیر کو دیں۔ اقتصادی فراڈ سے متعلق شکایات سرکاری ای میل [email protected] پر بھی بھیجی جا سکتی ہیں۔
سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی: سابق پی ڈی سی انجینئر کے خلاف چارج شیٹ دائر