ظفر اقبال
اوڑی/ لچھی پورہ بونیار وائلڈ لائف سینچری کے دزنا کے علاقے میں گزشتہ تین روز سے آگ بھڑک اٹھی ، جس میں سبز درختوں اور جنگلاتی جانوروں کو ایک سنگین خطرہ لاحق ہے، جس میں اس خطے میں پائے جانے والے ہینگول اور مارخور شامل ہیں مقامی ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی طور پر یہ آگ نجی زمین پر شروع ہوئی تھی جہاں کچھ رہائشیوں نے اپنے کھیتوں اور چرنے والے علاقوں میں جھاڑیوں اور خشک گھاس کو آگ لگائی تھی بعد میں آگ جنگل کے علاقے میں پھیل گئی ، جس سے لچھی پورہ وائلڈ لائف سینچری کے اندر دازنا اور چارکھ کے کچھ حصوں کو شدید متاثر ہوئی۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ لچھی پورہ وائلڈ لائف سیننچری کو شدید خطرہ ہے۔ یہ ایک انمول قومی اثاثہ ہے اور جموں و کشمیر کے مرکزی علاقے میں صرف 5 وائلڈ لائف پناہ گاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی جنگلی بکری ، شاہی مارخور کا گھر ہے۔ انہوں نے لچھی پورہ وائلڈ لائف سنچری کی حفاظت کرنا کوئی انتخاب نہیں ہے ، یہ ایک ذمہ داری ہے ۔انہوں نے ممبر اسمبلی اوڑی سے بھی مداخلت کی اپیل کی ہے۔ وائلڈ لائف کے ایک عہدیدار نے جی بتایا کہ محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیمیں ، مقامی پولیس کے ساتھ ، اطلاع ملتے ہی جائے موقعہ پر پہنچی ہے ۔
انہوں کہا پہلے ایک جگہ آگ بھڑک اٹھی جس پر قابو پا لیا گیا مگر بد قسمتی سے ایک دوسرے حصے میں اتوار کی شام کو آگ بڑک اٹھی ہے۔عہدیدار نے بتایا کہ یہاں بھی آگ کو کچھ حصوں میں قابو میں لایا گیا ہے ، لیکن کچھ علاقوں ابھی آگ سرگرم ہے۔حکام نے رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگل کے علاقوں میں آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے جنگل کے علاقوں کے قریب فضلہ ، جھاڑیوں یا گھاس کو آگ لگانے سے گریز کریں۔
لچھی پورہ بونیار وائلڈ لائف سینچری ایریا میں تیسرے رووز سے آگ جاری، مقامی آبادی میں تشویش