عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ ضلع بانڈی پورہ کے نسبل علاقے سے تعلق رکھنے والے کسانوں نے ضلع ترقیاتی کمیشنر بانڈی پورہ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری مداخلت کرتے ہوئے خراب بورویلوں کی مرمت کو یقینی بنائیں، کیونکہ آبپاشی ڈویژن گاندربل کی جانب سے پانی کی فراہمی بند ہونے کے باعث تقریباً دو ہزار کنال زرعی اراضی شدید آبپاشی بحران کا شکار ہو گئی ہے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ گاندربل سے علاقے کو فراہم کیا جانے والا آبپاشی نظام کافی عرصے سے غیر فعال ہے، جس کے باعث زرعی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے میں نصب دو بورویل کسانوں کیلئے متبادل ذریعہ آبپاشی تھے اور دھان کی کاشت پر انحصار کرنے والے سینکڑوں کسانوں کو جزوی راحت فراہم کر رہے تھے، تاہم اب دونوں بورویل مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں جس سے کسانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
متاثرہ کسانوں نے کہا کہ پانی کی عدم دستیابی کے باعث جاری دھان سیزن بری طرح متاثر ہوا ہے جبکہ قابلِ کاشت زمین کا بڑا حصہ بنجر ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ کسانوں نے بتایا، “شدید آبی قلت کے باعث ہم دھان کی پنیری کی منتقلی شروع نہیں کر پا رہے ہیں۔ متعدد بار درخواستوں کے باوجود حکام نے اس مسئلے کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ نسبل انتظامی طور پر ضلع بانڈی پورہ میں آتا ہے، تاہم علاقے کو روایتی طور پر آبپاشی کا پانی گاندربل کی جانب سے فراہم کیا جاتا رہا ہے۔ کسانوں کا الزام ہے کہ متعلقہ محکموں کے درمیان تال میل کی کمی کے باعث علاقے کا زرعی شعبہ نظر انداز ہو رہا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق زراعت علاقے کے سینکڑوں خاندانوں کا بنیادی ذریعہ معاش ہے اور پانی کی طویل قلت نے خاص طور پر بوائی اور دھان کی منتقلی کے اہم مرحلے کے دوران کاشتکاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بورویلوں کی جلد مرمت نہ کی گئی تو کسانوں کو اس سیزن میں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
علاقے کے رہائشیوں اور کسانوں نے ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذاتی طور پر معاملے کا نوٹس لیں اور متعلقہ محکموں کو فوری طور پر بورویلوں کی مرمت و بحالی اور علاقے کو مستقل بنیادوں پر آبپاشی کا پانی فراہم کرنے کی ہدایت دیں تاکہ فصلوں اور کسانوں کے روزگار کو بچایا جا سکے۔
کاشتکاروں کا نسبل بانڈی پورہ میں خراب بورویلوں کی فوری مرمت کا مطالبہ