عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/ اکنامک آفینسز ونگ (EOW) کشمیر نے منگل کے روز بڈگام میں 93 لاکھ روپے کے مبینہ زمینی فراڈ معاملے میں کئی مقامات پر تلاشی کارروائیاں انجام دیں۔ حکام کے مطابق اس معاملے میں جعلی معاہدوں کے ذریعے مہاجرین کی زمین اور کھڑے درخت فروخت کرنے کا الزام ہے۔
پریس کے نام جاری ایک بیان میں ترجمان نے کہا کہ کرائم برانچ جموں و کشمیر کے اکنامک آفینسز ونگ کشمیر نے پولیس اسٹیشن ای او ڈبلیو کشمیر میں درج ایف آئی آر نمبر 17/2026 کے سلسلے میں بڈگام کے سمسان علاقے میں تلاشی کارروائیاں کیں۔ مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 318(4)، 336(3)، 340 اور 61(2) کے تحت درج کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق یہ معاملہ بڈگام کے جاولپورہ علاقے کے غلام محی الدین ڈار اور بنگلورو نارتھ، کرناٹک/جانی پور جموں کے سوم ناتھ کول کے خلاف 93 لاکھ روپے کی مبینہ زمینی دھوکہ دہی سے متعلق ہے۔
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ شکایت کنندہ کو پلوامہ کے دروسو علاقے میں پانچ کنال مہاجر زمین اور بجبہاڑہ میں 300 کھڑے درخت خریدنے کیلئے جعلی معاہدوں کے ذریعے دھوکہ دیا گیا۔ الزام ہے کہ سوم ناتھ کول نے خود کو اصل مالکان کا پاور آف اٹارنی ہولڈر ظاہر کیا جبکہ غلام محی الدین ڈار بطور گواہ سامنے آیا۔
ترجمان کے مطابق مزید تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ نہ زمین اور نہ ہی درخت ملزمان کی ملکیت تھے۔ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ تحقیقات کے تسلسل میں ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی موجودگی میں سمسان بڈگام میں رہائشی مقامات پر تلاشی لی گئی تاکہ کیس سے متعلق اہم شواہد اور قابل اعتراض مواد جمع کیا جا سکے۔
ای او ڈبلیو نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اقتصادی دھوکہ دہی کرنے والوں سے ہوشیار رہیں اور اس نوعیت کے معاملات کی اطلاع براہِ راست ایس ایس پی ای او ڈبلیو سرینگر (کرائم برانچ جموں و کشمیر) عبدالواحد شاہ کو دیں۔ اقتصادی فراڈ کے متاثرین اپنی شکایات سرکاری ای میل [email protected] پر بھی ارسال کر سکتے ہیں۔
زمینی دھوکہ دہی معاملہ: ای او ڈبلیو کے بڈگام میں چھاپے