عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/اکنامک آفینسز وِنگ (EOW) سرینگر نے پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں جعلی تقرریوں، فرضی سروس ریکارڈ اور غیر قانونی تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق ایک بڑے گھوٹالے میں دو ملزمان اور ایک مرحوم سابق انجینئر کے خلاف اینٹی کرپشن کورٹ بارہمولہ میں چارج شیٹ پیش کر دی ہے۔
جاری بیان کے مطابق، کرائم برانچ جموں و کشمیر کے اکنامک آفینسز وِنگ نے ایف آئی آر نمبر 46/2023 کے تحت ناصر احمد میر ساکن کنن بابا گنڈ، بانڈی پورہ؛ مشتاق احمد ملک ساکن ارگام، بانڈی پورہ (جو کہ کے پی ڈی سی ایل میں سرکاری ملازم ہیں)؛ اور کے پی ڈی سی ایل/الیکٹرک ڈویژن سمبل کے ایک مرحوم ایگزیکٹو انجینئر کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔
تحقیقات کے مطابق، ناصر احمد میر نے ایس آر او-43 (1994) کے تحت جعلی تقرری آرڈر کے ذریعے ملازمت حاصل کی۔ متعلقہ ریکارڈ میں اس آرڈر کا کوئی وجود نہیں ملا، جس سے اس کی صداقت مشکوک ہو گئی۔
مزید انکشاف ہوا کہ مشتاق احمد ملک، جو اس وقت سینئر اسسٹنٹ کے طور پر تعینات تھے، نے ناصر احمد میر کے لیے جعلی سروس بک تیار کی اور اس میں ایس آر او-43 کے تحت تقرری ظاہر کی۔ فارنزک جانچ میں یہ بات ثابت ہوئی کہ سروس بک میں درج اندراجات مشتاق احمد ملک نے خود تحریر اور دستخط کیے تھے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تقرری آرڈر کے اجرا سے متعلق کوئی سرکاری ڈسپیچ یا وصولی ریکارڈ بھی دستیاب نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، اس وقت کے تحصیلدار بانڈی پورہ کی تصدیق کے مطابق ناصر احمد میر ایس آر او-43 کے تحت تقرری کے اہل نہیں تھے کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسی بنیاد موجود نہیں تھی۔
اس کے باوجود، مرحوم ایگزیکٹو انجینئر نے 2009 میں، مبینہ تقرری کے تین سال بعد، بغیر مناسب جانچ کے تنخواہوں کی ادائیگی کی اجازت دی۔
تحقیقات میں ملزمان کے درمیان جعلسازی، دھوکہ دہی اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر مبنی مجرمانہ سازش ثابت ہوئی ہے۔ چنانچہ تعزیراتِ ہند (RPC) کی دفعات 420، 468، 471 اور 120-بی کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا ہے، جبکہ سرکاری ملازمین کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کی متعلقہ دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔
چارج شیٹ عدالت میں پیش کر دی گئی ہے جہاں اس پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
جعلی تقرری معاملہ: ای او ڈبلیو نے تین افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی