عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ جموں و کشمیر میں تشدد کے سلسلے کو ختم کرے کیونکہ ’اب بہت ہو چکا‘ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ملی ٹینسی میں کافی حد تک کمی آئی ہے، لیکن پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ حصہ تسلیم نہ کرنا اب بھی خطے میں تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا، میرا اپنے ملک اور پاکستان دونوں سے عاجزانہ مشورہ ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم تشدد کا راستہ چھوڑ کر امن کے راستے تلاش کریں تاکہ ہم عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
پہلگام حملے پر بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ یہ بھائی چارے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔ تاہم، اس واقعے کے بعد جموں و کشمیر کے عوام خود سڑکوں پر نکل آئے اور ملی ٹینسی کے خلاف احتجاج کیا، جو پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ یہاں کے لوگ ملی ٹینسی کو مسترد کرتے ہیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہالوگ بغیر کسی کے کہنے کے خود سڑکوں پر آئے اور کہا کہ یہ ہم نہیں ہیں، ہم اس کا حصہ نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کے لوگوں نے خاص طور پر پاکستان کو سخت پیغام دیا کہ تشدد بند ہونا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا، مجھے امید ہے کہ ہمارے پڑوسی نے یہ سمجھ لیا ہوگا کہ ہم کبھی ملی ٹینسی کی حمایت نہیں کریں گے اور نہ ہی مستقبل میں کسی ایسی جنگ کا حصہ بنیں گے۔ ہم جانور نہیں ہیں، ہم امن پسند لوگ ہیں اور چاہتے ہیں کہ امن قائم رہے۔ اب بہت ہو چکا، اسے یہیں ختم کریں۔
ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے کہا کہ آج جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ملی ٹینسی نہیں بلکہ منشیات کی بڑھتی ہوئی لعنت ہے، جو نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ پورے ملک کو کھوکھلا کر رہی ہے۔انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ کچھ مقامی لوگ مالی فائدے کے لیے اس کاروبار میں ملوث ہیں اور کہا کہ اس کے خلاف اتنی سخت کارروائی ہونی چاہیے کہ کوئی دوبارہ اس جرم کی ہمت نہ کرے۔انہوں نے کہاکوئی بھی مذہب منشیات کے استعمال کی تعلیم نہیں دیتا۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے زور دے کر کہا کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر والدین اور ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہااس ناسور کے خلاف ہر والدین اور ہر شہری کو لڑنا ہوگا تاکہ اسے ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ جنگیں کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں بلکہ مسائل کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ انہوں نے روس-یوکرین جنگ اور مغربی ایشیا میں جاری تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان جنگوں نے مہنگائی میں اضافہ کیا ہے اور دنیا بھر میں غربت کو گہرا کر دیا ہے۔
انہوں نے کہاآج یورپ کو دیکھیں، خوشحال ممالک بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ امریکہ خود بھی اس جنگ کی وجہ سے اچھی حالت میں نہیں ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال 22اپریل کو پہلگام کے بائیسرن میدان میں لشکرِ طیبہ کے تین ملی ٹینٹوں نے سیاحوں پر فائرنگ کر دی تھی، جس میں 25 سیاح اور ایک مقامی گھوڑے والا، جس نے سیاحوں کو بچانے کی کوشش کی تھی، جاں بحق ہو گیا تھا۔
تشدد کا سلسلہ ختم کیا جائے، اب بہت ہو چکا،ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا پاکستان کو دو ٹوک پیغام