عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/لوک سبھا میں منگل کے روز کانگریس کے رکن منیکم ٹیگور سمیت آٹھ اراکین کو اسپیکر کی حکم عدولی کرنے اور اسپیکر کی جانب کاغذ پھینکنے کے الزام میں بجٹ اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا۔
ان اراکین میں مسٹر ٹیگور کے علاوہ امرندر سنگھ ’راجا وڑنگ‘، گردیپ سنگھ اوجلا، ہیوی ایڈن، ڈین کورییاکوس، پرشانت بَرولے، ایس وینکٹیش اور سی کرن کمار ریڈی شامل ہیں۔
لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی کو مبینہ طور پر بولنے کا موقع نہ دینے کے مسئلے پر کانگریس کے اراکین نے آج بھی ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دو بار ملتوی کرنی پڑی۔ ہنگامے کے دوران ان اراکین نے اسپیکر کے سامنے پہنچ کر نعرے بازی کی اور کچھ کاغذ ہوا میں اچھالے۔
دوپہر تین بجے کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو دلیپ سیکیّا نے کانگریس کے ان اراکین کے ناموں کا ذکر کیا۔ اس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ان اراکین کو اجلاس کی بقیہ مدت کے لیے معطل کرنے کی تجویز پیش کی، جسے ایوان نے صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔
مسٹر رجیجو نے معطلی کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہاکہ”ان اراکین کے بدسلوکی، ایوان اور اسپیکر کی شدید حکم عدولی، سیکریٹری جنرل اور دیگر افسران کے مقام کی طرف بڑھنے اور ایوان کے وسط میں آنے اور کاغذ پھینکنے کا ایوان سخت نوٹس لیتا ہے۔”اس پر اپوزیشن کے اراکین نے زبردست ہنگامہ شروع کر دیا۔ اس پر مسٹر سیکیّا نے کارروائی بدھ کی صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔
قابل ذکر ہے کہ پیر کو ایوان میں صدر کے خطاب پر بحث شروع کی گئی تھی۔ بحث میں شامل ہوتے ہوئے مسٹر گاندھی نے ایک سابق فوجی سربراہ کی غیر مطبوعہ کتاب کے اقتباس پر مبنی ایک رسالے کے مضمون کا حوالہ دینا چاہا، جس کی اسپیکر اوم برلا نے اجازت نہیں دی۔ اس پر کئی بار ہنگامے کے باعث ایوان کی کارروائی متاثر ہوئی۔