عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ اگر جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کی اجازت نہ بھی ملی تو بھی نیشنل کانفرنس 19 جولائی کو نئی دہلی روانہ ہوگی۔سری نگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نےکہا کہ جموں و کشمیر کے ’’چھینے گئے حقوق‘‘کی بحالی کے حوالے سے پارٹی کا مؤقف اٹل ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہمارے پروگرام میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ ڈاکٹر مصطفیٰ کمال بھی یہی چاہتے تھے کہ ہمارے چھینے گئے حقوق بحال کیے جائیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ 11جولائی کو ڈاکٹر مصطفیٰ کمال کی طبیعت انتہائی ناساز ہونے کے باوجود پارٹی نے اپنے طے شدہ سیاسی پروگرام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔انہوں نے کہا، ڈاکٹروں نے اُس وقت ہمیں بتایا تھا کہ شاید وہ زندہ نہ رہ سکیں۔ اس کے باوجود نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہدایت دی کہ جو بھی ہو، ہمیں 12 جولائی کا جموں پروگرام جاری رکھنا ہے۔ جب ہم نے وہ پروگرام منسوخ نہیں کیا تو 20 جولائی کے احتجاج کو منسوخ کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت دے دی ہے کہ اگر احتجاج کی اجازت نہ بھی ملی تو وہ 19 جولائی کو نئی دہلی کے لیے روانہ ہوں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس صبر و تحمل کے ساتھ اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی اور متبادل حکمتِ عملی بھی تیار رکھے گی۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں صبر سے کام لینا آتا ہے۔ ہم انتظار بھی کریں گے، لیکن ساتھ ہی اپنا متبادل منصوبہ بھی تیار رکھیں گے۔‘‘
اجازت نہ بھی ملی تب بھی19جولائی کو دہلی روانہ ہوں گے: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ