عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اور ایم ایل اے سجاد لون نے بدھ کے روز کہا کہ وزیر اعلیٰ کو بڈگام اسمبلی ضمنی انتخابات کے دوران بڈگام میں لاء یونیورسٹی قائم کرنے کے اپنے وعدے کو ہر صورت پورا کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے انحراف وزیر اعلیٰ کے عہدے کی حرمت کو مجروح کرے گا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں سجاد لون نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدے ادارہ جاتی ذمہ داری کے زمرے میں آتے ہیں اور انہیں حرف بہ حرف اور روح کے مطابق نافذ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’وزیر اعلیٰ کے عہدے کی حرمت اسی میں ہے کہ ایسے وعدے پورے کیے جائیں۔‘‘
مجوزہ ادارے پر جموں کی جانب سے مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے لون نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جموں ترقی کرے، تاہم کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت کے حوالے سے جموں کے اپوزیشن رویے کو انھوں نے ’’جنون‘‘قرار دیا اور کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جموں میں پہلے ہی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (IIM) موجود ہے، تو پھر کشمیر میں لاء یونیورسٹی کے قیام کو متنازع کیوں بنایا جا رہا ہے۔
سجاد لون نے الزام عائد کیا کہ جموں کو تیزی سے کشمیر کی ترقیاتی امنگوں کے خلاف ایک سیاسی آلہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور شکایات کو منتخب انداز میں اٹھایا جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دربار موو کے خاتمے اور کاروباری سرگرمیوں کی منتقلی جیسے بڑے انتظامی اور معاشی فیصلوں کے باوجود جموں کی قیادت کی جانب سے کوئی خاص مزاحمت سامنے نہیں آئی۔انہوں نے کہا، ’’ان کی سیاسی جارحیت صرف اسی وقت نظر آتی ہے جب بات کشمیر کی مخالفت کی ہو۔‘‘پیپلز کانفرنس کے سربراہ نے خبردار کیا کہ اگر کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں ان لوگوں کے ذریعے کی گئیں جنہیں انہوں نے ’’خود ساختہ ثالث‘‘ قرار دیا، اور جو مسلسل کشمیر کو دشمن اور صرف ایک خطے کو وفادار ظاہر کرتے ہیں، تو ایسی کوششیں ناکام ہوں گی۔
لون نے اس معاملے کو ریزرویشن پالیسیوں پر کشمیر میں بڑھتی ناراضگی سے بھی جوڑا اور الزام لگایا کہ کشمیریوں کو مواقع سے باہر دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی پیش رفت بیگانگی کو بڑھا رہی ہے اور علاقائی خلیج کو مزید گہرا کر رہی ہے۔واضح اور دوٹوک سیاسی قیادت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ اب ’’سچ کو سچ کہنے‘‘ کا وقت آ گیا ہے اور خطوں کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد کے فقدان کو سنجیدگی سے حل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ کشمیر میں عوامی صبر جواب دے رہا ہے اور حل طلب شکایات کے طویل مدتی سیاسی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
کشمیر مخالف سیاست بند کی جائے، ترقی سب کا حق ہے: سجاد لون